السلام علیکم
میں موبائل کی خرید و فروخت کا کام کرتا ہوں تو ابھی میں نے نئے موبائل قسطوں پر دینا بھی شروع کر دیے ہیں اور موٹر سائیکل وغیرہ بھی دینا شروع کیا ہے ،جس طرح آپ لوگوں نے بتایا ہوا ہے کہ پہلے ہی طے ہو جانا چاہیئے کہ یہ موبائل اگر 20 ہزار روپے کا ہے تو قسطوں پہ 25 ہزار روپے کا ہوگا. اگر کوئی قسط لیٹ ہو جائے یا ٹائم بڑھ جائے یا کسی وجہ سے بھی پیسے نہ دے پائے ،مطلب دو تین مہینے پیسے نہ دے تو اس کے بعد بھی اگر پیسے دے تو وہی پیسے ہوں گے اس پہ اضافی رقم نہیں لیتا میں، نہ ہی اس بندے سے جب تک پیسے پورے نہ ہو ں وہ موبائل خریدتا ہوں، میں ساری چیزوں کا خیال رکھتا ہوں جیسے اگر کسی کو سونا چاہئیے ہو یا کچھ ایسی چیزیں جس کا اسلام میں منع ہے جو مجھے پتہ ہے تو میں وہ چیزیں بھی نہیں لے کر دیتا۔کسی کو پیسے نہیں دیتا خود چیز خرید کر دیتا ہوں یا اگر وہ چیز خرید لے جیسے کوئی موبائل خرید لیتا ہے تو پھر میں اس کے موبائل کا ڈبہ رکھ لیتا ہوں اور موبائل کی ریسیو بھی رکھ لیتا ہوں مطلب اپنی تسلی کر لیتا ہوں کہ اس نے یہی موبائل اس سے لیا ہے اس کو خود پیسے نہیں دیتا۔
قسطوں پر خرید و فروخت درج ذیل چار شرطوں کے ساتھ شرعاً جائز اور درست ہے۔
مجلس عقد میں یہ طے کر لیا جائے کہ یہ معاملہ ادھار اور قسطوں پر ہوگا۔(1)
ہر قسط کی مالیت طے کر لی جائے ۔( 2)
یہ بھی طے کر لیا جائے کہ کل کتنی قسطیں ہو نگی ۔(3)
کسی قسط کی تاخیر کی وجہ سے کوئی جرمانہ وغیرہ مشروط نہ ہو ۔ ( 4)
چنانچہ سائل اگر ان شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے قسطوں پر خرید و فروخت کا لین دین کرتا ہو تو یہ جائز اور درست ہوگا البتہ کسی دوسرے بندے کی خریدی ہوئی چیز کا رسید یا ڈبہ وغیرہ رکھ کر خریدار کی طرف سے اس کی پیمنٹ کر کے بعد میں ان سے قسطوں کی صورت میں زائد رقم وصول کرنا شرعاً جائز نہیں اس سے اجتناب لازم ہے۔
کمافي شرح المجلة: البيع مع تأجيل الثمن وتقسيطه صحيح (إلى قوله) يلزم أن تكون المدة معلومة في البيع بالتاجيل والتقسيط (إلى قوله) يعتبر ابتداء مدة الأجل والقسط المذكورين في عقد البيع من وقت تسليم المبيع اھ (الفصل الثاني: في بيان المسائل المتعلقة بالنسيئة والتأجيل،ج:2،ص:166)
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1