PPHI کی طرف سے ملازمین کے لیے ایک اختیاری پالیسی ہے، جس کے تحت ہر ملازم کی تنخواہ سے ماہانہ 1200 روپے کٹوتی کی جاتی ہے، اور ادارہ بھی اپنی طرف سے 1200 روپے شامل کرتا ہے۔ ملازم کو ریٹائرمنٹ یا استعفیٰ کی صورت میں جمع شدہ رقم (ملازم + ادارہ) واپس کر دی جاتی ہے۔ ادارہ یہ واضح نہیں کرتا کہ یہ رقم کہاں یا کس طریقے سے استعمال کی جاتی ہے۔ کیا یہ پالیسی شرعاً جائز ہے یا سود کے زمرے میں آتی ہے؟
صورتِ مسئولہ میں سائل کے سوال میں اس بات کی وضاحت نہیں ہےکہ ملازم کو ریٹائرمنٹ یا استعفیٰ کی صورت میں ادارہ کی طرف سےتنخواہ کی کٹوتی کی رقم کے ساتھ ملاکرجو اضافی رقم دی جاتی ہے، وہ اداراہ کے ذاتی اکاونٹ سے شامل کی جاتی ہے یااس رقم کی دوسری جگہ سرمایہ کاری کرکےاس سےحاصل شدہ منافع کوملاکر ملازم کودی جاتی ہے،تاکہ اس کے مطابق حتمی حکم شرعی سے آگاہ کیاجاتا، تاہم اگر ادارہ کی طرف سے دی جانے والی اضافی رقم ذاتی اکاؤنٹ سے دی جاتی ہو، تویہ ادارہ کی جانب سے ملازم کے لیےبطورِ عطیہ یا تعاون شمارہوگی ، ایسی پالیسی فی نفسہٖ شرعاً جائز ہے، اورملازم کے لیے اس رقم کالینابھی جائزاورحلال ہوگا۔
البتہ اگر تحقیق سے یہ ثابت ہو کہ مذکورفنڈ کی رقم سودی سرمایہ کاری میں لگائی جاتی ہےاورپھراس سے حاصل منافع کوشامل کرکے اضافی رقم دی جاتی ہے ، توچونکہ اس صورت میں فقہی لحاظ سےاس میں تشبہ بالربا(سودسےمشابہت) پایاجاتا ہے ، چنانچہ اس اضافی رقم کو وصول کرنےسے گریزکرناچاہیے ، لیکن اگر وصول کر لی ہوتو بغیر نیت ثواب کسی مستحق کو صدقہ کر دینی چاہیے۔
لہٰذا ادارہ سے اس فنڈ کی نوعیت اور سرمایہ کاری کے طریقہ کار کی وضاحت طلب کرنابہتر ہے۔تاکہ معلوم ہوجانے کے بعدحکم شرعی کے مطابق عمل کرنے میں آسانی ہو۔
کما فی البحرالرائق : (قولہ والاجرۃ لاتملک بالعقد) الی قولہ (قولہ بل بالتعجیل او بشرطہ او بالاستیفاء او بالتمکن) یعنی لایملک الاجرۃ الابواحد من ھذہ الاربعۃ والمراد انہ لایستحقھا المؤجر الا بذٰلک کما اشار الیہ القدوری اھ (کتاب الاجارۃ،ج:7، ص: 300، م: رشیدیۃ)
پراویڈنٹ فنڈ اختیاری سے حاصل شدہ اضافی رقم کو کن مدات میں استعمال کیا جاسکتاہے؟
یونیکوڈ پراویڈنٹ فنڈ 0