کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ گھر میں جھگڑا ہوگیا، غصے میں آکر شوہر نے یہ الفاظ استعمال کئے کہ" اگر میں اس گھر میں رہا تو میری بیوی کو طلاق ہے اور طلاق وہ بھی تین طلاقیں" ،اب مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ وہ اسی گھر میں رہنا چاہتے ہیں کیونکہ ان کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ دوسری جگہ رہائش اختیار کریں ،شرعی نکتہ نظر سے اس کی گنجائش ہے یا نہیں ؟ براہ کرم رہنمائی فرمائیں ۔
صورت مسئولہ میں مذکور شخص نے اپنی بیوی کو لڑائی جھگڑے کے دوران جو الفاظ " گر میں اس گھر میں رہا تو میری بیوی کو طلاق ہے اور طلاق وہ بھی تین طلاقیں " کہے ہیں اس سے اس کی بیوی پر تین طلاقیں معلق ہوچکی ہیں ،چنانچہ اگر وہ شخص اس گھر میں رہے گا تو شرط کے پائے جانے پر اس کی بیوی پر معلق تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوجائے گی ،جس کے بعد ان دونوں کا بغیر حلالہ شرعیہ کے میاں بیوی کی طرح ایک ساتھ رہنا بھی درست نہیں ہوگا ۔
البتہ معلق تین طلاقوں سے بچنے کیلئے یہ تدبیر اختیار کی جا سکتی ہے کہ شوہر اپنی بیوی کو ایک طلاقِ بائن دے کر اپنی زوجیت سے الگ کر دے اور دورانِ عدت شوہر مذکور گھر میں ہر گز رات نہ گزارے اور پھر جب عدت ختم ہو جائے تو شوہر اس گھر میں رات گزارے ، اس وقت چونکہ بیوی اسکے نکاح میں نہ ہوگی اس لئے اس پر کوئی طلاق واقع نہ ہوگی، اور مذکور شرط بھی پوری ہو جائے گی، اسکے بعد باہمی رضامندی سے باقاعدہ شرعی گواہان کی موجودگی میں نئے حقِ مہر کے تقرر کے ساتھ تجدیدِ نکاح کرلے، تجدیدِ نکاح کے بعد دوبارہ اس گھر میں رہنے کی وجہ سے مزید کوئی طلاق واقع نہ ہوگی، تاہم آئندہ کیلئے شوہر کو فقط دو (2) طلاقوں کا اختیار ہوگا، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔
کمافی بدائع الصنائع: لو أن رجلا قال لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق وطالق وطالق لا بل هذه فدخلت الأولى الدار طلقتا ثلاثا؛ لأن قوله لا بل هذه غير مستقل فأضمر فيه الشرط فصار طلاقها جزاء الدخول كطلاق الأولى، والجزاء في حق الأولى ثلاث تطليقات كذا في حق الثانية، ولو قال أنت طالق وطالق وطالق لا بل هذه وقع على الثانية واحدة وعلى الأولى ثلاث لأنه يضمر في حق الثانية ما يستقل به الكلام والكلام يستقل بإضمار تطليقة واحدة ألا ترى أن التطليقات ههنا متفرقة فصار كأنه قال لا بل هذه طالق بخلاف الفصل الأول؛ لأن هناك علق الثلاث جملة بالدخول فلا بد من اعتبارها جملة واحدة على حسب التعليق فصارت تلك الكلمة مستدركة في حق الثانية (34/3)
وفی الھندیۃ: وإن علق الطلاق بالشرط إن كان الشرط مقدما فقال إن دخلت الدار فأنت طالق وطالق وطالق وهي غير مدخولة بانت بواحدة عند وجود الشرط في قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى ولغا الباقي وعندهما يقع الثلاث وإن كانت مدخولة بانت بثلاث إجماعا إلا أن على قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى يتبع بعضها بعضا في الوقوع وعندهما يقع الثلاث جملة واحدة (374/1)
و فی الدر المختار : (و تنحل) اليمين (بعد) وجود (الشرط مطلقا) لكن إن وجد في الملك طلقت و عتق و إلا لا ، فحيلة من علق الثلاث بدخول الدار أن يطلقها واحدة ثم بعد العدة تدخلها فتنحل اليمين فينكحها الخ
و فی رد المحتار تحت : (قوله و تنحل اليمين إلخ) لا تكرار بين هذه و بين قوله فيما سبق و فيھا تنحل اليمين إذا وجد الشرط مرة لأن المقصود هناك الانحلال بمرۃ في غير كلما و هنا مجرد الانحلال اهـ ح و لأنه هنا بين انحلالها بوجودها في غير الملك بخلاف ما سبق۔اھ (3/355).
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0