مفتیانِ کرام کیا فرماتے ہیں اس مسئلے کے بارے میں کہ میرے والد صاحب کی ایک بلڈنگ ہے جس کی قیمت موجودہ مالیت میں ایک کروڑ روپے ہے، اس میں ہم چار بھائی ، ایک والدہ ہیں اور ایک والد بھی ۔ ایک بھائی اپنا حصہ الگ کرنا چاہتا ہے تو اس مالیت میں ٹوٹل کتنے حصے ہوں گے، جو بھائی الگ ہونا چاہتا ہے اس کا حصہ کتنا بنے گا؟
نوٹ: اس کے علاوہ ہماری کوئی جائیداد نہیں ہے، والد صاحب بھی بھائی کے مطالبہ پر ان کو حصہ دینا چاہتے ہیں تو اس کا کیا طریقہ ہے؟
واضح ہوکہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں اپنے مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتاہے،کسی وارث(بیٹی،بیٹے)کا اس کی جائیداد میں شرعاً کوئی حق نہیں ہوتا ،اورنہ ہی وہ تقسیمِ جائیداد کا مطالبہ کرسکتے ہیں،لہذا ایک بھائی کا والد کی حیات میں جائیداد وغیرہ کے حصہ کا مطالبہ کرنا شرعاًجائزنہیں،جس سے اجتناب لازم ہے، البتہ اگر والد خودہی اپنی مرضی سے کسی بیٹے کو کچھ دینا چاہے یا کل جائیداد کو تقسیم کرنا چاہے تو اس کا اسے اختیار ہے،اور یہ شرعاً تقسیمِ میراث نہیں بلکہ ہبہ اور گفٹ کہلائے گا،جس کا بہترشرعی طریقہ یہ ہےکہ سائل کےوالدمحتاط اندازے کے مطابق اپنی بقیہ زندگی کے لئے جو کچھ رکھنا چاہے وہ رکھ کر اور اپنی بیوی کو جو کچھ دینا چاہے وہ دےکر بقیہ مال و جائیداد تمام اولاد (بیٹوں) کے درمیان برابرتقسیم کرکے ہر ایک کو اس کے حصہ پر باقاعدہ مالک و قابض بھی بنادے ، تاکہ یہ ہبہ اور گفٹ شرعاًبھی درست اور تام ہوسکے ،محض کاغذات میں نام کردیناکافی نہیں ،پھر بہتر اور افضل یہ ہے کہ سب اولاد کو برابر و یکساں حصہ دے کسی کو کم کسی کو زیادہ نہ دے، تاہم اگر وہ اپنی اولاد میں سے کسی کو اس کی خدمت گزاری ، محتاجگی یا دینداری وغیرہ کی وجہ سے دوسروں کے مقابلہ میں کچھ زیادہ دینا چاہے، تو اس کا بھی اسے اختیارہے، مگربلاوجہ کسی وارث کو اپنی جائیداد سے بالکلیہ محروم نہ کرے کہ یہ گناہ کی بات ہے۔
كما في صحيح المسلم: عن النعمان بن بشير. قال:تصدق علي أبي ببعض ماله. فقالت أمي عمرة بنت رواحة: لا أرضى حتى تشهد رسول الله صلى الله عليه وسلم. فانطلق أبي إلى النبي صلى الله عليه وسلم ليشهده على صدقتي. فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم (أفعلت بولدك هذا كلهم؟) قال: لا. قال (اتقوا الله واعدلوا في أولادكم). فرجع أبي. فرد تلك الصدقة.( باب كراهة تفضيل بعض الأولاد في الهبة،ج:٢،ص:٨٧٤،مط:البشرى)
وفيه ايضاََ:وعنه قال.أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال (ألك بنون سواه؟) قال: نعم. قال (فكلهم أعطيت مثل هذا؟) قال: لا. قال (فلا أشهد على جور) ( باب كراهة تفضيل بعض الأولاد في الهبة،ج:٢،ص:٨٧٥،مط:البشرى)
و في الدر المختار:وفي الخانية: لا بأس بتفضيل بعض الاولاد في المحبة لانها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الاضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني، وعليه الفتوى.ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم.( كتاب الهبة،ج:٥،ص:٦٩٦،مط:سعيد)
وفي حاشية ابن عابدين:وأركانه: ثلاثة وارث ومورث وموروث. وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل والعلم بجهة إرثه،( كتاب الفرائض،ج:٦،ص:٧٥٨،ط:سعيد)
وفي بدائع الصنائع: وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في النحلى لقوله سبحانه وتعالى {إن الله يأمر بالعدل والإحسان} [النحل: 90]( فصل في حكم الهبة،ج:٦،ص:١٢٧،مط:سعيد)
و في البحر الرائق:يكره تفضيل بعض الأولاد على البعض في الهبة حالة الصحة إلا لزيادة فضل له في الدين وإن وهب ماله كله الواحد جاز قضاء وهو آثم كذا في المحيط(الى قوله) وفي الخلاصة المختار التسوية بين الذكر والأنثى في الهبة ولو كان ولده فاسقا فأراد أن يصرف ماله إلى وجوه الخير ويحرمه عن الميراث هذا خير من تركه لأن فيه إعانة على المعصية ولو كان ولده فاسقا(هبة الأب لطفلة،ج:٧،ص:٢٨٨،مط:رشيديه)