میں لاہور میں ایک رجسٹرڈ کمپنی میں اپنے والد کے ساتھ %50پارٹنر ہوں، میرے والد نےشراکت داری میں یہ بھی بتایا تھا کہ ان کی وفات کے بعد ان کی کمپنی میں ان کا سارا حصہ مجھے منتقل کر دیا جائے گا اور یہ رجسٹرار آفس میں بھی رجسٹرڈ ہے۔ میرے 1 بھائی، 2 بہنیں اور 1 سوتیلی ماں ہے۔ براہ کرم میری رہنمائی فرمائیں کہ شریعت کیا کہتی ہے کہ کیا میں اپنے والد کی وفات کے بعد واحد مالک بن سکتا ہوں یا مجھے شریعت کے مطابق ان کا %50 حصہ اپنے خاندان کو دینا ہوگا؟
محض کسی چیز کو کسی کے نام کردینے یا رجسٹری میں اس کا نام درج ہونے سے شرعاً ملکیت منتقل نہیں ہوتی، جب تک مالک اپنی زندگی میں اس چیز پر باقاعدہ قبضہ اور مکمل تصرف کا اختیار نہ دیدے ۔لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کے والد نے اپنی زندگی میں کمپنی میں اپنے %50 حصے پر سائل کو مکمل قبضہ اور مستقل تصرف کا اختیار نہیں دیا تھا، بلکہ صرف یہ کہا تھا کہ وفات کے بعد یہ حصہ سائل کو مل جائے گا، تو یہ شرعاً وصیت کے حکم میں ہے، اور وارث کے حق میں ایسی وصیت دیگر ورثاء کی اجازت کے بغیر نافذ نہیں ہوتی۔ اس لیے والد کا %50 حصہ بدستور انہی کی ملکیت شمار ہوگا، جو ان کی وفات کے بعد ترکہ بن کر تمام ورثاء میں شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہوگا۔
کمافی شرح المجلۃ: المادۃ 1092- کما أن أعیان المتوفی المتروکۃ مشترکۃ بین الورثۃ علی حسب حصصھم کذلک یکون الدین الذی لہ فی ذمۃ شخص مشترکاً بینھم علی حسب حصصھم إلخ(الکتاب العاشر: فی انواع الشرکات، ج 4 ، ص 27 ، ط دار الکتب العلمیۃ)-
وفی الدر المختار: لا یجوز التصرف فی مال غیرہ بلا إذنہ(کتاب الغصب، ج 9، ص 291، ط: دار الکتب العلمیۃ)-
وفی الھندیۃ: أب وابن يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما مال فالكسب كله للأب إذا كان الابن في عيال الأب لكونه معينا له، ألا ترى أنه لو غرس شجرة تكون للأب اھ (کتاب الشرکۃ،ج:2، ص: 329، ناشر: ماجدیۃ)-
وفي التاترخانية : وأما شرائط صحتها فأنواع ،أما في الموهوب فهو أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض و أن يكون الموهوب مقسوما اذا كان ما يحتمل القسمة وأن يكون الموهوب متميزا عن غير الموهوب و لا يكون متصلا ولا مشغولا بغير الموهوب (كتاب الهبة ، ج: ١٤، ص؛ ٤١٢،ناشر ؛ حقانية )
وفی الھدایۃ:«قال: "ولا تجوز لوارثه" لقوله عليه الصلاة والسلام: "إن الله تعالى أعطى كل ذي حق حقه، ألا لا وصية لوارث" ولأنه يتأذى البعض بإيثار البعض ففي تجويزه قطيعة الرحم ولأنه حيف بالحديث الذي رويناه،»(کتاب الوصایا،ج:4،ص:514،ناشر بیروت)
وفی بدائع الصنائع:(ومنها) أن لا يكون وارث الموصي وقت موت الموصي، فإن كان لا تصح الوصية لما روي عن أبي قلابة رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال «إن الله تبارك وتعالى أعطى كل ذي حق حقه، فلا وصية لوارث» وفي هذا حكاية، وهي ما حكي أن سليمان بن الأعمش - رحمه الله تعالى - كان مريضا، فعاده أبو حنيفة رضي الله عنه فوجده يوصي لابنيه، فقال أبو حنيفة: رضي الله عنه إن هذا لا يجوز، فقال: ولم يا أبا حنيفة فقال: لأنك رويت لنا أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا وصية لوارث» فقال سليمان رحمه الله: يا معشر الفقهاء أنتم الأطباء ونحن الصيادلة (کتاب الوصایا،ج:7،ص:337،ناشر:دارالکتب العلمیۃ)