کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جناب عبدالرافع صاحب کی کپڑے کا کارخانہ ہے اس کے لیے دھاگہ وہ فراز صاحب سے خریدتے ہیں ، اب آئے دن دھاگے کی قیمت بڑھتی رہتی ہے، اس کے لیے عبدالرافع اپنا مال فراز صاحب سے بک کرالیتے ہیں، اس قیمت پر جو موجودہ چل رہی ہے، عبدالرافع صاحب نے فراز صاحب کو رقم نہیں دی مال کی اور فراز صاحب نے مال نہیں دیا، اب جب مال ادا کیا جاتا ہے اس کی قمیت وہی لگائی جاتی ہے، جس پر مال بک ہوا تھا، اگر چہ موجودہ قیمت کم ہو یا زیادہ ہو یہ ایک مارکیٹ کا اصول ہے، عبد الرافع صاحب نے مال بک کروایا بیس (20) روپے کے حساب سے اب اس کی قمیت چودہ (14) روپے رہ گئی اب عبدالرافع صاحب بیس روپے کے حساب سے لینے کے پابند ہیں، لیکن فراز صاحب ان کو بولتے ہیں کہ آپ کا نقصان زیادہ ہے، آپ نے بیس (20) روپے کے حساب سے جو بکنگ کرائی تھی وہ ختم اب نئی قیمت یعنی موجودہ قیمت سے مال لیا جائیگا، اس صورت میں عبدالرافع کا فائدہ تو ہے ، لیکن فراز صاحب کا بظاہر نقصان ہے، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ آیا اس طرح دونوں کی رضامندی سے اس طرح پرانے معاملے کو ختم کر کے نیا معاملہ کیا جا سکتا ہے؟ اور ان دونوں پر کسی کا کوئی دباؤ نہیں اپنی خوشی سے یہ معاملہ ہو رہا ہے، دوسری بات اس طرح بکنگ کرانا شرعی اعتبار سے درست ہے، جس طرح عبدالرافع بکنگ کراتا ہے؟ براہ مہربانی رہنمائی فرمائیں۔
نوٹ: مذکور صورت میں کام بک کرانے کے بعد مشتری پر مارکیٹ اصول کے مطابق مال کا لینا لازم ہوتا ہے اور بائع بھی دینے کا پابند ہوتا ہے، البتہ مال نہ لینے کی صورت میں اس پر کوئی جرمانہ لازم نہیں ہوتا، اور اس میں ایڈوانس رقم بھی نہیں لی جاتی۔
سوال میں مذکور وضاحت سے اس معاملہ کا محض وعدہ بیع ہونا معلوم ہوتا ہے، جس کے خلاف کرنا بلا عذر جائز نہیں، اس لیے بوقت ادائیگی دھاگہ اگر کسی فریق کو واقعی نقصان یاعذر نہ ہو تو اسی معاملہ کو پختہ کرلیا جائے اور اگر واقعی نقصان یا حسب وعدہ عملدر آمد کرنے میں عذر ہو ، جیسا کہ صورت سوال سے معلوم ہوتا ہے، اور اس میں مال ملنے کے بعد بوقت ضرورت باہمی رضامندی سے کمی وبیشی کی جائے توبہر دو صورت اس کی اجازت ہے۔
کما فی المشکوۃ: عن النبی ﷺ قال لاتمار اخاک ولاتمازحہ ولا تعدہ موعداً فتخلفہ رواہ الترمذی (417)۔
و فی الاشباہ والنظائر مع شرحہ للحموی: الخلف فی الوعد حرام قال السبکی ظاہر الآیات والسنة تقضی وجوب الوفاء الخ (3/236)۔
و فی الفقه الاسلامی: فلو وعد شخص غیرہ ببیع أو قرض أو ھبة مثلاً لاتجبر علی الوفاء بوعدہ بقوۃ القضاء بل یندب لہ تنفیدہ دیانۃ الخ (4/90)۔
و فی الھدیۃ: ویجوز ان یحط عن الثمن ویتعلق الاستحقاق بجمیع ذلک فالذیادۃ والحط یلتحقان باصل العقد عندنا (الی قولہ) ولنا انھا بالحط والذیادۃ یغیران العقد وصف مشروع الی وصف مشروع وھو کونہ رابحا او خاسراً أو عدلا ولھما ولایۃ الرفع فاولی ان یکون لھما ولایۃ التغییر الخ (3/76)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1