السّلام وعلیکم میرا نام ابراہیم ہے والد محمد عامر میرا سوال یہ ہے کہ میری والدہ محترمہ کا انتقال میری نانی سے قبل ہوا تھا میری نانی کے انتقال کے بعد میرے نانانے نانی کے زیور اپنے بچوں میں تقسیم کیے جس میں میری علم کے مطابق میرے ایک ماموں کے نام ۲ چوریاں ائیں جسکو انہوں نے بیچ دیا تھا اور ہمارے لیے ایک ہار جو کہ ۲ تولہ کا تھا، بوقت تقسیم ہم نے وہ زیور امانتاً اپنی خالہ کے پاس رکھوایا اب جب ہم نے وہ ہار اپنی خالہ سے طلب کیا تو انکا کہنا تھا کہ وہ نانانے واپس لیا ہے اور وہ بیچ کے سب میں تقسیم کریں گے جس میں شرعی طور پہ ہمارا حق نہیں ہے
میرا سوال یہ ہے ۔کیا ایک دفعہ کوئی جائیداد یا تحفہ دے کر واپس لیا جا سکتا ہے؟اور کیا ہم اس زیور کے حقدار ہیں یا نہیں؟
صورت مسؤلہ میں سائل کی والدہ کا انتقال چونکہ ان کی والدہ کی زندگی ہی میں ہوگیا تھا ،اس لیے سائل کی نانی کے ترکہ میں اس کی والدہ اور اس کے واسطے سے اس کی أولاد کا شرعاً حصہ نہ تھا ،تاہم نانی کے تقسیم ترکہ کے وقت اگر تمام ورثاء کی باہمی رضامندی سے نانا نے سائل اور اس کے دیگر بہن بھائیوں کو مذکور سونا بطور ہبہ وگفٹ دیدیا ہو ،اور انہیں یہ سونا حوالہ بھی کردیا ہو ،تو شرعاً وہ اس سونے کے مالک بن چکے تھے ،چنانچہ یہ سونا اگر سائل والوں نے اپنی خالہ کے پاس امانتاً رکھا ہو ،تو اب اس خالہ پر لازم ہے کہ وہ سونا ان کے مطالبہ پر انہیں حوالہ کردے اس سونے پر قابض ہوکر خالہ کا امانتاً رکھا گیاسونا انہیں حوالہ نہ کرنا جائز نہیں ،جس سے اسے احتراز لازم ہے۔
کما فی رد المحتار: أن شرط الإرث وجود الوارث حيا عند موت المورث، اھ ( كتاب الفرائض،ج: 6،ص: 757،مط: دار الفکر بیروت)
و فیہ ایضاً: وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل والعلم بجهة إرثه، اھ (کتاب الفرائض، ج: 6،ص: 758،مط: دار الفکر بیروت)
و فی الموسوعۃ الفقھیہ: الأصل أنه لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه، اھ (حال تنفيذ إذن المالك وغيره،ج: 28،ص: 296،مط: دار الصفوۃ)
و فی الفتاوی الھندیۃ: ليس له حق الرجوع بعد التسليم في ذي الرحم المحرم، وفيما سوى ذلك له حق الرجوع إلا أن بعد التسليم لاينفرد الواهب بالرجوع، بل يحتاج فيه إلى القضاء أو الرضا أو قبل التسليم ينفرد الواهب بذلك هكذا في الذخيرة الخ،اھ (كتاب الهبة، الباب الخامس في الرجوع في الهبة،ج: 4،ص: 375،مط: دار الفکر)