السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !محترم مفتی صاحب! میں ایک پیچیدہ خاندانی معاملے میں آپ کی رہنمائی چاہتا ہوں، جس میں وراثت، نان و نفقہ، اور بچوں کے حقوق شامل ہیں، میرے دادا کا انتقال اس حال میں ہوا کہ انہوں نے کوئی وصیت نہیں چھوڑی، ان کی ایک جائیداد ان کے ترکہ میں شامل ہوگئی، بعد میں میرے والد اس جائیداد کے وارث بنے، کچھ عرصہ بعدایک عمل کے ذریعے (جس میں غالباً انہوں نے دوسرے ورثاء کو رقم دے کر ان کے حصے خرید لیے) میرے والد اس جائیداد کے 50٪ کے مالک بن گئے، پھر اس جائیداد کو کرائے پر دے دیا گیا، اور 18 سال تک میرے والد نے اس 50٪ حصے سے حاصل ہونے والے کرایہ کی آمدنی خود استعمال کی،اسی 18 سال کے دوران، میں (ان کا بیٹا) علیحدہ رہ رہا تھا، کرائے کے مکان میں، اور شدید مالی مشکلات کا شکار تھا، یہاں تک کہ بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی مشکل تھا، میری اس حالت کے باوجودمجھے اپنے والد کی طرف سے کوئی مالی مدد، نان و نفقہ، یا کرایہ کی آمدنی میں سے کوئی حصہ نہیں ملا، میرے علم کے مطابق، میرے والد نے یہ آمدنی زیادہ تر اپنی ضروریات اور میرے دو دیگر بھائیوں کی پرورش پر خرچ کی، یہ بات خاص طور پر تکلیف دہ ہے ، کیونکہ اسلام میں اولاد کے درمیان عدل کی بہت تاکید کی گئی ہے، جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:"اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو" (صحیح بخاری: 2587)اس واضح ہدایت کے باوجود میں نے طویل عرصہ تک اس ناانصافی کو برداشت کیا، جس نے مجھے گہرے طور پر متاثر کیا،میرے سوالات:1. کرایہ کی آمدنی میں والد کے 50٪ حصے کے متعلق:چونکہ میرے والد اس جائیداد کے 50٪ کے قانونی مالک تھے اور وہ اس آمدنی کو خود اور میرے دو بھائیوں پر خرچ کرتے رہے، جبکہ میں شدید مالی ضرورت میں تھا اور مجھے کچھ نہیں دیا گیا،تو کیا شریعت کے مطابق مجھے اب ان کے ترکہ سے اس کرایہ کی آمدنی میں سے کوئی حصہ طلب کرنے کا حق ہے؟کیا اپنے جائز حق کی آمدنی استعمال کرتے ہوئے میری واضح ضرورت کو نظر انداز کرنا میرے حق کی خلاف ورزی ہے یا ان کے ترکہ پر کوئی ذمہ داری بنتی ہے؟2. نان و نفقہ (خرچہ) کے متعلق:جائیداد کے معاملے سے الگ، میرے والد پر شرعاً یہ ذمہ داری تھی کہ وہ اپنے محتاج بیٹے کو نان و نفقہ دیں، چونکہ میں 18 سال تک شدید مالی مشکلات میں رہا اور مجھے کوئی خرچہ نہیں دیا گیا،تو کیا مجھے اس واجب نان و نفقہ کا مطالبہ ان کے ترکہ سے کرنے کا حق ہے؟اگر ہاں، تو اس کی مقدار کیسے متعین ہوگی اور اس کی وصولی کا شرعی طریقہ کیا ہے؟اگرچہ صبر اسلام میں ایک بڑی فضیلت ہے اور میں نے اس عرصے میں صبر کرنے کی کوشش کی، لیکن اس طویل ناانصافی نے مجھے مجبور کیا کہ میں شریعت کی روشنی میں اپنے حقوق اور ذمہ داریوں کو سمجھوں ، تاکہ انصاف قائم ہو سکے، لہٰذا میں یہ رہنمائی چاہتا ہوں کہ:کیا میرے والد کے ترکہ پر اس کرایہ کی آمدنی میں سے کوئی حق بنتا ہے؟یا نان و نفقہ کی عدم ادائیگی کی وجہ سے کوئی حق بنتا ہے؟یا دونوں صورتوں میں؟جزاکم اللہ خیراً۔
واضح ہو کہ بچے کی ولادت سے لے کر اس کے بالغ ہونے تک اس کے بنیادی اخراجات، اچھے بُرے کی تمیز سکھانا، اپنی وسعت کے مطابق تعلیم دلوانا اور دین کی بنیادی تعلیمات سے روشناس کرانا، اسی طرح شادی کی عمر ہو جانے کی صورت میں اس کے لئے مناسب رشتہ دیکھنا والدین کی ذمہ داری ہے،نیز اگر وہ اپنی اولاد میں کوئی چیز تقسیم کرنا چاہیں تو سب میں برابری کرنا ضروری ہے بعض اولاد کو بھر پور طور پر نوازنا ، جبکہ بعض کو بالکلیہ محروم کر دینا شرعاً جائز نہیں جس سے احادیث مبارکہ میں ممانعت وارد ہوئی ہے، البتہ بالغ ہونے کے بعد اس کا نان و نفقہ اور شادی بیاہ پر ہونے والے اخراجات شرعا والدین کے ذمہ لازم نہیں، بلکہ خود اسی کے ذمہ لازم ہیں، اس لئے اولاد کے لئے والدین سے اپنے شادی بیاہ یا دیگر اخراجات کا مطالبہ کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں، تا ہم اگر وہ اس سلسلہ میں اولاد کے ساتھ تعاون کریں تو یہ ان کی طرف سے تبر ع و احسان ہوگا، لہذاصورتِ مسئولہ میں مذکورجائیداد چونکہ سائل کے والد کی ملکیت تھی،چنانچہ اس سے حاصل ہونے والی کرایہ کی آمدنی بھی انہی کی ملکیت شمارہوگی، لہذا انہوں نے اسے اپنے اوپر یا بعض اولاد پر خرچ کیا تو اصل کے اعتبار سے یہ ان کا حقِ تصرف تھا، لہٰذا والد کے انتقال کی صورت میں اب سائل کے لئے گذشتہ کرایہ میں حصہ کا مطالبہ کرنا تو شرعاً درست نہیں ، البتہ انتقال کے بعد مذکور جائیداد اور اس سے حاصل ہونے والے کرایہ میں سائل بھی دیگر ورثاء کی طرح اپنےشرعی حصہ کا حقدار ہے جس کا وہ مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہے۔
عن أبي سعيد وابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من ولد له ولد فليحسن اسمه وأدبه فإذا بلغ فليزوجه فإن بلغ ولم يزوجه فأصاب إثما فإنما إثمه على أبيه. (شعب الإيمان للبيهقي، باب حقوق الأولاد والأهلين، 6\401-8663)
وفي الدر المختار: (وتجب) النفقة بأنواعها على الحر (لطفله) يعم الأنثى والجمع (الفقير) الحر، وفي رد المحتار: (قوله بأنواعها) من الطعام والكسوة والسكنى، ... (قوله لطفله) هو الولد حين يسقط من بطن أمه إلى أن يحتلم، ... (قوله الفقير) أي إن لم يبلغ حد الكسب، فإن بلغه كان للأب أن يؤجره أو يدفعه في حرفة ليكتسب وينفق عليه من كسبه لو كان ذكرا، بخلاف الأنثى (باب النفقة، ج: 3، ص: 612، ط: ايج ايم سعيد )
وفي الخانية: نفقة الأولاد الصغار والإناث المعسرات على الأب لا يشاركه في ذلك أحد ولا تسقط بفقره ولا يجب عليه نفقة الذكور البكار إلا أن يكون الولد عاجزا عن الكسب لزمانة أو مرض فتكون نفقته على والده (الهندية، ج: 1، ص: 445)
وفي رد المحتار: أقول: حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة أنه ورد في الحديث أنه صلى الله عليه وسلم قال «سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرا أحدا لآثرت النساء على الرجال» رواه سعيد في سننه وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير «اتقوا الله واعدلوا في أولادكم» فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية ولو وهب شيئا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى (كتاب الوقف، ج: 4، ص: 444)