موضوع: ہبہ اور وراثت کے متعلق رہنمائی
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
میرا سوال یہ ہے کہ میرے سسر نے اپنی زندگی میں اپنا پرانا گھر بیچ کر نیا گھر خریدا۔ نیا گھر انہوں نے اپنے ایک بیٹے (میرے شوہر) کے نام رجسٹری کر دیا۔ یہ منتقلی ان کی زندگی میں ہی ہوئی تھی۔
وہ اپنی بیوی سے ناراض تھے اور ان کی طلاق ہو چکی تھی ۔ طلاق کے بعد باقی بچے ان سے ملتے نہیں تھے۔ میرے سسر نے کئی مرتبہ انہیں بلایا اور فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ بات تک نہیں کرتے تھے۔ انتقال سے کچھ مہینے پہلے ایک بیٹا ملنے آیا تھا اور ایک بیٹی نے فون پر بات کی تھی اور ملنے کا کہا تھا۔
انتقال تک وہ ہمارے ساتھ اسی گھر میں رہتے رہے۔ گھر کا پورا خرچ، نظام اور ذمہ داری میرے شوہر اٹھاتے رہے۔
گھر دیتے وقت میرے سسر نے یہ شرط لگائی تھی کہ اپنی پوتیوں کی شادی تک گھر فروخت نہ کیا جائے۔ لیکن رجسٹری میرے شوہر کے نام تھی۔
اب براہِ کرم رہنمائی فرما دیں:
1۔ کیا یہ ہبہ (تحفہ) شرعاً مکمل سمجھا جائے گا؟
2۔ کیا اس گھر میں باقی ورثاء کا حصہ بنتا ہے یا نہیں؟
3۔ اگر وراثت بنتی ہو تو کیا ہمیں فوراً حصہ ادا کرنا ضروری ہوگا؟
4۔ اگر حصہ ادا نہ کیا گیا تو کیا اس کا اثر میرے سسر کی آخرت پر ہوگا؟
ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ شرعی طور پر بالکل درست فیصلہ کریں اور آخرت کے لیے مطمئن ہو سکیں۔
جزاکم اللہ خیراً
واضح ہو کہ کوئی چیز محض کسی کے نام کرنے سے اس کی ملکیت نہیں بن جاتی ، جب تک اسے اس چیز پر باقاعدہ مالکانہ قبضہ نہ دے دیا جائے ،بایں معنیٰ کہ وہ اس میں جس طرح چاہے، تصرف کرسکے،لہذا صورت مسئولہ میں سائلہ کے سسر نے اگر سائلہ کے شوہر کو مذکور گھر پر مالکانہ قبضہ بھی دیا تھا، تو ایسی صورت میں یہ گھر اسی کا شمار ہوگا، اور اس میں بقیہ ورثاء کا کوئی حصہ نہیں ہوگا،لیکن اگر سائلہ کے سسر نے مذکور گھر پر سائلہ کے شوہر کو مالکانہ قبضہ نہیں دیا تھا، تویہ ہبہ شرعاً تام نہیں ہوا،بلکہ بدستور والد مرحوم کی ملکیت میں برقرار رہنے کی وجہ سے اس میں بقیہ ورثہ کا بھی حصہ ہے،جسے جتنا جلدی ہوسکے دینا بہتر ہے، جبکہ میراث کی تقسیم میں اگر کسی وجہ سے تاخیر ہوجائے تو اس سے سائلہ کے سسر کو کوئی عذاب یا گناہ نہیں ہوگا۔
کما جاء فی التنزیل العزیز : ولَا تَزِرُ وَازِرَةٞ وِزۡرَ أُخۡرَىٰۚ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُم مَّرۡجِعُكُمۡ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمۡ فِيهِ تَخۡتَلِفُونَ(الانعام،164)
و فی البحر: (قوله وجعلته لك) لأن اللام للتمليك ولهذا لو قال هذه الأمة لك كان هبة ولو قال هي لك حلال لا تكون هبة إلا أن يكون قبله كلام يستدل به على أنه أراد به الهبة كذا في الخلاصة قيد بقوله لك لأنه لو قال جعلته باسمك لا يكون هبة ولهذا قال في الخلاصة لو غرس لابنه كرما إن قال جعلته لابني تكون هبة وإن قال باسم ابني لا تكون هبة( کتاب الہبۃ،ج:5،ص:285،ط:دار الکتاب الاسلامی)
وفی الھدایۃ: الهبة عقد مشروع لقوله عليه الصلاة والسلام: "تهادوا تحابوا" وعلى ذلك انعقد الإجماع "وتصح بالإيجاب والقبول والقبض" أما الإيجاب والقبول فلأنه عقد، والعقد ينعقد بالإيجاب، والقبول، والقبض لا بد منه لثبوت الملك.(کتاب الھبۃ، ج:3،ص:222،ط:دار احیاء التراث)