جناب، ہمارا ایک خصوصی بچہ ہے جس کی عمر 13 سال ہے۔ میری بیوی ڈاکٹروں کے بجائے پیروں اور باباؤں کو ترجیح دیتی ہے۔ گزشتہ تیرہ سالوں کے دوران وہ بہت سے پیروں اور باباؤں کے پاس جا چکی ہے، لیکن وہ بعض پیروں اور باباؤں کو پسند نہیں کرتی۔ اس پیر کے دن وہ صبح 6 بجے فیصل آباد ایک پیر کے پاس گئی۔ اس نے نہ مجھے فون کیا اور نہ ہی میری کال اٹھائی۔ واپسی پر جب میں نے اسے فون کیا تو میں نے کہا: "آج کے بعد اگر تم بچے کو پیروں کے پاس لے جانے کے لیے گھر سے نکلی تو تجھے تین طلاق۔"
واضح ہو کہ طلاق کو کسی شرط کیساتھ معلق کرنے سے طلاق شرعاً معلق ہوجاتی ہے،چنانچہ اس صورت میں جب بھی وہ شرط پائی جاوےگی تو طلاق واقع ہوجائیگی،لہذا صورت مسئولہ میں جب سائل نے اپنی بیوی کو کہا"کہ آج کے بعد اگر تم بچے کو پیروں کے پاس لے جانے کے لیے گھر سے نکلی تو تجھے تین طلاق"تو ایسی صورت میں اس کے بعد جب بھی سائل کی بیوی اپنے بچے کو پیر کے پاس لے جانے کی غرض سے گھر سے نکلے گی تو سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوجائیگی،جس کے بعد رجوع کا حق باقی نہیں رہےگا،اس لئے معلق طلاق سے بچنے کیلئے آئندہ سائل کی بیوی کیلئے بچے کو پیروں کے پاس لے جانے سے احتراز چاہئے۔
کما جاء فی التنزیل العزیز: فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُ ۥۗ ، الآیۃ (البقرۃ:230)
وفی صحیح البخاری: عن عائشة، أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال: "لا حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول"(کتاب الطلاق،باب من اجاز طلاق الثلاث،ج:5،ص:2014،ط:دار ابن الکثیر،رقم:4961)
وفی الھندیۃ: متى كرر لفظ الطلاق بحرف الواو أو بغير حرف الواو يتعدد الطلاق۔(ج:1،ص:156،مط:ماجدیہ)
و فی الہدایۃ: وإذا أضاف الطلاق إلى النكاح وقع عقيب النكاح مثل أن يقول لامرأة إن تزوجتك فأنت طالق أو كل امرأة أتزوجها فهي طالق(الی قولہ) وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق "(کتاب الطلاق ،باب الایمان فی الطلاق، ج:2،ص:81،ط:انعامیہ)
و فی الہندیۃ: واذا أضافہ الی الشرط وقع عقیب الشرط اتفاقاًمثل أن یقول کامرأتہ ان دخلت الدار فأنت طالق الخ (کتاب الطلاق الباب الرابع فی الطلاق بالشرط ج1 ص488 ط:ماجدیہ)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0