قرآن کے مطابق افطار کا وقت کیا ہے؟ کیونکہ ہمارے علاقے میں مسجد کی طرف سے افطار کا وقت اس وقت دیا جاتا ہے جب افق پر ابھی بھی روشنی نظر آ رہی ہوتی ہے۔
واضح ہو کہ افطارکا تعلق غروبِ آفتاب کے ساتھ ہے نہ کہ غروب کے بعد نظر آنے والی سرخ یا سفید روشنی کے ساتھ ۔ جبکہ جملہ مفسرین اور عرب اہل لسان کےنزدیک "لیل" یعنی رات کی ابتداء غروب آفتاب کے ساتھ ہو جا تی ہے، لہذا سائل کے علاقے کی مسجد میں اگر غروب آفتاب کے بعد افطار کا اعلان کیا جا تا ہو تو ایسا کرنا شرعاً جائز اور درست ہو گا افطار کے لئے رات کی سیاہی اور تاریکی چھاجانے تک انتظار کرنا شرعاً ضروری نہیں ، بلکہ غروب آفتاب کے بعد بلاعذر افطار میں تاخیر کرنا مکروہ ہے۔
وكما فی بدائع الصنائع : إلى قوله {ثم أتموا الصيام إلى الليل} [البقرة: 187] أباح للمؤمنين الأكل، والشرب، والجماع في ليالي رمضان إلى طلوع الفجر،الخ ( فصل فی شرائط انواع الصیام ، ج:2 ص: 86 ناشر : سعید)
وفی حاشیۃ ابن العابدین: والمراد بالغروب زمان غيبوبة جرم الشمس بحيث تظهر الظلمة في جهة الشرق قال صلى الله عليه وسلم «إذا أقبل الليل من هنا فقد أفطر الصائم» أي إذا وجدت الظلمة حسا في جهة المشرق فقد ظهر وقت الفطر أو صار مفطرا في الحكم؛ لأن الليل ظرفا للصوم وإنما أدى بصورة الخبر ترغيبا في تعجيل الإفطار كما في فتح الباري قهستاني،اھ( کتا ب الصوم، ج:2 ص : 371 ناشر: سعید )