السلام علیکم !میں گورنمنٹ ملازم ہوں ۔(1)کیا جی پی فنڈ پر منافع لینا جائز ہے؟ (2)اگر گورنمنٹ سے ہاؤس بلڈنگ لینا ہو تو اس پر منافع دینا جائز ہے؟ جی پی فنڈ پرمنافع لگ رہا ہے۔
(1)جی پی فنڈ کی دو قسمیں ہیں (۱) جبری (۲)اختیاری
جبری جی پی فنڈ میں ملازم کی تنخواہ سے جورقم ماہ بہ ماہ کاٹی جاتی ہے ،اور اس پر ہر ماہ جو اضافہ محکمہ اپنی طرف سے کرتا ہے، پھر مجموعہ پر جور قم سالانہ بنام سود جمع کرتا ہے ، شرعاً ان تینوں رقموں کا حکم ایک ہی ہے ، اور وہ یہ کہ یہ سب رقمیں در حقیقت ملازم کی تنخواہ ہی کا حصہ ہیں، اگر چہ سود یا کسی اور نام سے دی جائیں، لہذا ملازم کے لئے یہ لینا اور اپنے استعمال میں لانا جائز اور درست ہے ، اور جب یہ رقمیں ملازم کے قبضہ میں آجائیں ،تو ان پر سال پورا ہونے پر ڈھائی فیصد کے حساب سے زکوٰۃ کی ادائیگی بھی لازم ہے، البتہ ملازم کے قبضہ میں آنے سے پہلے اس پر اس کی زکوۃ لازم نہیں۔جبکہ جی پی فنڈ کی دوسری قسم اختیاری ہے، جس میں ملازم اپنی مرضی اور اختیار سے رقم کٹواتا ہے ، اس پر جو رقم محکمہ بنام سود دے گا، اس کا لینا اور اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں ، اس سے اجتناب لازم ہے، اس دوسری قسم میں چونکہ تشبہ بالر با کے ساتھ سود خوری کا ذریعہ بنالینے کا خطرہ بھی ہے ، اس لئے اس رقم کو وصول ہی نہ کیا جائے، یا وصول کر کے بغیر نیتِ ثواب کسی مستحقِ زکوۃ کو صدقہ کر دیا جائے،لہذا صورتِ مسؤلہ میں بھی سائل کو چاہیئے کہ مذکور نوعیت کو سامنے رکھ کر اسی کے مطابق ہی فیصلہ کرکے اس پر عمل کرے۔
(2) ہاؤس بلڈنگ فنائسنگ کارپوریشن کی مروجہ ترتیب سود پر مبنی ہونے کی وجہ سے شرعاً جائز نہیں،اس لئے اس ترتیب کےمطابق ان سےقرض لینا تو جائز نہیں، البتہ اس معاملہ کو جائز طریقہ سے انجام دینا بھی ممکن ہے، وہ اس طرح کہ کوئی شخص یا ادارہ بینک وغیرہ مطلوبہ مکان کی باضابطہ نقد خریداری کر کے اس پر اپنا مالکانہ قبضہ کرلے، اس کے بعد ادھار معاملے کے ذریعے سائل پر قسطوں میں بیچ دے اور اس طرح قسطوں کے معاملے میں ابتداء ًطے کر لیا جائے کہ یہ ادھار اور قسطوں کا معاملہ ہوگا،اس میں کل اتنی قسطیں ہونگی اور ہر قسط کی مالیت یہ ہوگی اور کسی قسط کے شارٹ ہونے پر کوئی اضافی چارجز بھی وصول نہ کیے جاتے ہوں تو اس طرح کا معاملہ شرعاً بھی جائز ہے اور سائل اپنے ذاتی مکان کا مالک بھی بن سکتا ہے ۔
كما قال الله تعالى: واحل الله البيع وحرم الربوا الآية ( البقرة :٢٧٥)۔
وفی الدر المختار : وفي الأشباه: كل قرض جر نفعاً حرام۔
وفی ردالمحتار:(قوله: كل قرض جر نفعاً حرام) أي إذا كان مشروطاً۔الخ(فصل فی القرض،ج:5،ص:166،ط:سعید)
وفيہ ایضا: (قوله لئلا یفيضی إلى النزاع ) (إلى قوله) .ومنها اشتراط أن يعطيه الثمن على التفاريق أو كل أسبوع البعض فإن لم يشرط في البيع بل ذكر بعده لم يفسد، وكان له أخذ الكل جملة وتمامه في البحر" (کتاب البیوع،ج:4،ص:531،ط:سعید)
وفي البحر الرائق: (والاجرة لا تملك بالعقد (إلى قوله) "(قوله :بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن) يعني لا يملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة والمراد أنه لا يستحقها المؤجر إلا بذلك كما أشار إليه القدوري في مختصره لأنها لو كانت دينا لا يقال أنه ملكه المؤجر قبل قبضه وإذا استحقها المؤجر قبل قبضها فله المطالبة بها وحبس المستأجر عليها وحبس العين عنه وله حق الفسخ إن لم يعجل له المستأجر كذا في المحيط لكن ليس له بيعها قبل قبضها"(کتاب الأجارۃ،ج:7،ص:300،ط:رشیدیۃ)
پراویڈنٹ فنڈ اختیاری سے حاصل شدہ اضافی رقم کو کن مدات میں استعمال کیا جاسکتاہے؟
یونیکوڈ پراویڈنٹ فنڈ 0