عید کی نماز کے خطبے کیا جمعہ کے خطبے سے مختلف ہوتے ہیں، اگر ہوتے ہیں تو کیا فرق ہے؟
صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کا مقصود عیدین اور جمعہ کے خطبہ کے درمیان احکام کے لحاظ سے فرق جاننا ہو تو واضح ہو کہ نمازِ جمعہ کے صحیح ہونے کے لیے خطبہ شرط ہے، جب کہ عیدین کی نماز میں خطبہ سنت ہے۔ چنانچہ اگر جمعہ کا خطبہ ترک کر دیا جائے تو جمعہ کی نماز ادا نہیں ہوگی، اس کے برعکس اگر عیدین کا خطبہ نہ پڑھا جائے تو نماز تو ہو جائے گی، البتہ ایسا کرنا مکروہ ہے۔دوسرا فرق یہ ہے کہ جمعہ کا خطبہ نماز سے قبل دینا شرط اور ضروری ہے، جب کہ عیدین کا خطبہ نماز کے بعد پڑھنا سنت ہے۔
کما فی بدائع الصنائع:وأما شرائط وجوبها وجوازها فكل ما هو شرط وجوب الجمعة وجوازها فهو شرط وجوب صلاة العيدين وجوازها من الإمام والمصر والجماعة والوقت إلا الخطبة فإنها سنة بعد الصلاة.ولو تركها جازت صلاة العيد.اھ(فصل شرائط وجوب وجواز صلاة العيدين،ج:1،ص:275،ط:دار الكتب العلمية)
الدر المختار وحاشية ابن عابدين:(تجب صلاتهما) في الأصح (على من تجب عليه الجمعة بشرائطها) المتقدمة (سوى الخطبة) فإنها سنة بعدها،اھ(باب العیدین،ج:2،ص:166،ط:سعید)
بدائع الصنائع:وأما الخطبة فليست بشرط؛ لأنها تؤدى بعد الصلاة وشرط الشيء يكون سابقا عليه أو مقارنا له، والدليل على أنها تؤدى بعد الصلاة ما روي عن ابن عمر أنه قال: «صليت خلف رسول الله ﷺ وخلف أبي بكر وعمر وكانوا يبدءون بالصلاة قبل الخطبة» وكذا روي عن ابن عباس أنه قال: «صليت خلف رسول الله ﷺ وخلف أبي بكر وعمر وعثمان فبدءوا بالصلاة قبل الخطبة ولم يؤذنوا ولم يقيموا» اھ(فصل بيان وقت أداء صلاة العيدين ،ج:1،ص:276،ط:دار الکتب العلمیہ)