السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
حضرت مفتی صاحب!
مجھے ایک ذاتی مسئلے میں شرعی رہنمائی درکار ہے۔ سوال بیان کرتے ہوئے مجھے شرمندگی محسوس ہو رہی ہے، مگر صحیح رہنمائی کے لیے پوچھنا ضروری سمجھتا ہوں۔
کچھ سال پہلے میں اعتکاف میں بیٹھا ہوا تھا، اور یہ میرا تیسرا یا چوتھا اعتکاف تھا۔ ایک دن فجر کی نماز کے بعد میں اپنے حجرے میں لیٹا ہوا تھا۔ لیٹے لیٹے کروٹ بدلتے ہوئے میں الٹا ہو گیا اور مجھ پر شہوت غالب آ گئی۔ اس حالت میں میں جاگ رہا تھا، سویا ہوا نہیں تھا۔ لیٹے لیٹے الٹا ہی میں تھوڑا سا ہلتا رہا، جس کے نتیجے میں میرا انزال ہو گیا۔ میں نے اس دوران اپنے ہاتھ کا استعمال نہیں کیا تھا۔
میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اس صورت میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ کیا اس سے میرا اعتکاف متاثر ہوا یا اس کا کوئی کفارہ لازم ہے؟ میں نے وہ اعتکاف مکمل کر لیا تھا۔ میں اللہ تعالیٰ سے توبہ بھی کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ وہ اپنی شان کے مطابق مجھے معاف فرمائے گا۔ تاہم اگر شریعت کے مطابق اس کا کوئی کفارہ یا تلافی ہے تو براہِ کرم اس بارے میں رہنمائی فرما دیں۔
جزاکم اللہ خیراً
صورتِ مسئولہ میں سائل کا اعتکافِ مسنون فاسد ہوگیا تھا اور اس کے ذمہ کم از کم ایک دن رات کی قضاء لازم ہے ، جس میں روزہ رکھنا بھی ضروری ہوگا۔اب اگر سائل نے بقیہ ایام مسجد میں گزارتے ہوئے ایک دن اور ایک رات اعتکاف کی قضاء کی نیت کرلی تھی تو اس کی قضاء ہو چکی ہے ورنہ اس کی قضاء لازم ہوگی۔
کما فی الھندیة : (و منھا الجماع و دواعیه) فیحرم علی المعتكف الجماع و دواعیه نحو المباشرة (الی قوله) و الجماع عامدًا او ناسیا لیلا او نھارا یفسد الاعتكاف انزل او لم ینزل و ما سواه یفسد اذا انزل الخ (مسائل فی الإعتکاف ،ج:۱،ص:۲۱۳،مط:دار الفكر بيروت )۔
وفی رد المحتار على الدر المختار: (قوله وحرم إلخ) لأنه إبطال للعبادة وهو حرام - {ولا تبطلوا أعمالكم} [محمد: 33]- بدائع (قوله أما النفل) أي الشامل للسنة المؤكدة ح.
قلت: قدمنا ما يفيد اشتراط الصوم فيها بناء على أنها مقدرة بالعشر الأخير ومفاد التقدير أيضا اللزوم بالشروع تأمل ثم رأيت المحقق ابن الهمام قال: ومقتضى النظر لو شرع في المسنون أعني العشر الأواخر بنيته ثم أفسده أن يجب قضاؤه تخريجا على قول أبي يوسف في الشروع في نفل الصلاة تناوبا أربعا لا على قولهما اهـ أي يلزمه قضاء العشر كله لو أفسد بعضه كما يلزمه قضاء أربع لو شرع في نفل ثم أفسد الشفع الأول عند أبي يوسف، لكن صحح في الخلاصة أنه لا يقضي لا ركعتين كقولهما نعم اختار في شرح المنية قضاء الأربع اتفاقا في الراتبة كالأربع قبل الظهر والجمعة وهو اختيار الفضلي وصححه في النصاب وتقدم تمامه في النوافل وظاهر الرواية خلافه وعلى كل فيظهر من بحث ابن الهمام لزوم الاعتكاف المسنون بالشروع وإن لزوم قضاء جميعه أو باقيه مخرج على قول أبي يوسف أما على قول غيره فيقضي اليوم الذي أفسده لاستقلال كل يوم بنفسه الخ( باب الاعتكاف ج:2 ،ص:444 ،مط:دار الفكر - بيروت)
و فی البدائع الصنائع : و لو جامع امراته فیما دون الفرج فانزل او باشرھا او قبلھا او لمسھا بشھوة فانزل یفسد صومه و علیه القضا و لا كفارة علیه و كذا اذا فعل ذلك فانزلت المرأة لوجود معنی الجماع و ھو قضاء الشھوة بفعله و ھو المس (الی قوله) و و عالج ذكره فامنی فاختلف المشائخ فیه قال بعضھم لا یفسد و قال بعضھم یفسد و ھو قول محمد بن سلمة و الفقیه أبی اللیث لوجود قضاء الشھوة بفعله فكان جماعا من حیث المعنی (الی ان قال) و ان وجد الجماع صورة و معنیً و ھو قضاء الشھوة الخ(فصل فی حکم فساد الصوم ،ج: ۲، ص۹۴،مط:دار الفكر بيروت )۔