سنت اعتکاف کا توڑنے کے بعد آگے کیا طریقہ ہے ؟
واضح ہو کہ اگر کوئی شخص رمضان المبارک کامسنون اعتکاف توڑدے تو اس پر پورے دس دن کی قضا کرنا ضروری نہیں، بلکہ اس کے ذمہ ایک دن اور ایک رات اعتکاف کی قضاء لازم ہوگی،لہذا اگر وہ غروب آفتاب سے لے کر اگلے دن کے غروب تک دن کو روزہ رکھتے ہوئے مسجد میں قضاء اعتکاف کی نیت سے ٹھہرجائے تو اس سے قضا ہوجائے گی ،البتہ بلاعذر اعتکاف توڑنا شرعاً گناہ ہے اس سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی ردالمحتار: وعلی کل فیظہر من بحث ابن الہمام لزوم الاعتکاف المسنون بالشروع وان لزوم قضاء جمیعہ او باقیہ مخرج علی قول ابی یوسف اما علی قول غیرہ فیقضی الیوم الذی افسدہ لاستقلال کل یوم بنفسہ(الی قولہ)والحاصل أن الوجه يقتضي لزوم كل يوم شرع فيه عندهما بناء على لزوم صومه بخلاف الباقي؛ لأن كل يوم بمنزلة شفع من النافلة الرباعية وإن كان المسنون هو اعتكاف العشر بتمامه تأمل،اھ(كتاب الصوم، باب الاعتكاف،ج: 2،ص: 444،مط: دار الفکر)