میں الیکٹرک وائر کا کام کرنا چاہتا ہو ں۔اُس میں ادھار تار دینی پڑتی ہے ۔تار کو پیمائش کے حساب سے بیچا جاتا ہے ۔مثلاً 90میٹر کا ایک بنڈل ہوتا ہے تار کا ۔اگر میں تار نقد میں 4000کا سیل کرتا ہوں یا اس سے کم کر دیتا ہوں 100-50۔ اور ادھار میں 4500کا سیل کرتا ہوں ۔کیا یہ اضافی 500روپے سود میں مانے جائیں گے کہ نہیں ؟ادھار والے کا کھاتہ چلتا ہےکہ وہ مہینہ یا ہفتہ میں پیمنٹ دیتا ہے ۔ادھاروالا کبھی کم یا کبھی فکسڈ پیمنٹ کیش یا آنلائن کردیتا ہے ۔براہ مہربانی ریفرنس والی books be مینشن کیجئے گا۔شکریہ۔
واضح رہے کہ کسی بھی چیز کو نقد کے مقابلے میں ادھار مہنگی اور زیادہ قیمت پر بیچنا بلا شبہ جائز اور درست ہے، اور یہ زیادتی سود کے زمرے میں بھی نہیں آتی ، تاہم ادھار اور قسطوں پر معاملہ کرنے کی صورت میں مندرجہ ذیل شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری ہے، بصورتِ دیگر ادھار کا معاملہ سودی معاملہ ہو کر ناجائز ہوگا ۔
(۱) مجلسِ عقد میں یہ طے کر لیا جائے کہ یہ معاملہ ادھار پر ہوگا اور کل مدت کتنی ہوگی۔(۲) مدت کے اندر اگر قسطیں طے کی جائیں ،تو ہر قسط کی مالیت طے کر لی جائے ،اور یہ بھی طے کر لیا جائے کہ کل کتنی قسطیں ہونگی۔(۳) کسی قسط کی تاخیر یا شارٹ ہونے کی وجہ سے کوئی جرمانہ وغیرہ بھی مشروط نہ ہو ۔
چنانچہ سائل الیکٹرک وائر ادھار فروخت کرنے کی صورت میں اگر درجِ بالا شرائط کو ملحوظ رکھ کر فروخت کرے، پھر چاہے وصولی کیش پیمنٹ کی صورت میں کرے یا آن لائن ،تو اس کا قسطوں پر ادھار کا کاروبار بلا شبہ جائز اور درست ہے۔
و في المبسو ط للسرخسي: وإذا عقدالعقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال: إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد؛ لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي صلى الله عليه وسلم عن شرطين في بيع، وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية، وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم، وأتما العقد عليه فهو جائز؛ لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد الخ (کتاب البیوع، باب البیوع الفاسدة، ج:۱۳، ص:۸، ط:دارالمعرفة)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1