آپ سے سوال یہ ہے کہ چاول فصل (harvest) کے وقت سستے ریٹ پر خرید کر اسٹور (ذخیرہ) کریں، پھر ۴-۵ مہینے بعد جب ریٹ اچھا ہو تو بیچیں — کیا یہ جائز ہے؟
فصل کے وقت چاول کو کم قیمت پر خرید کر اپنے پاس ذخیرہ کرنا اور بعد ازاں مناسب وقت پر زیادہ قیمت پر فروخت کرنا فی نفسہٖ جائز ہے؛ کیونکہ یہ تجارت کی معروف اور مباح صورت ہے جس میں خرید و فروخت کے ذریعے نفع حاصل کیا جاتا ہے۔
البتہ اگراس شخص کے اس عمل سے عوام کو تنگی لاحق ہوتی ہو یا مصنوعی قلت پیدا کرنے یا قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کرنے کی نیت سے یہ شخص ذخیرہ اندوزی (احتکار) کرے، تو یہ عمل ناجائز اور گناہ ہے جس پر احادیث مبارکہ میں سخت وعید وارد ہوئی ہے ۔لہٰذا جب تک مقصود محض جائز تجارت اور نفع کا حصول ہو اور اس سے عامۃ الناس کو ضرر نہ پہنچے، تو مذکورہ صورت جائز ہے، بصورتِ دیگر ناجائز ہوگی۔
في تكملة فتح الملھم: ثم ذهب اكثر الفقهاء إلى ان حرمة الاحتكار مختصة بالاقوات، فأما الادام، والحلوا، والعسل ، والزيت، واعلاف البهائم فليس فيها احتكار محرم - والثالث : ان يضيق على الناس بشرائه الخ ( الى قوله ) واما احتكار الاشياء الأخرى فيفوض إلى راى الحاكم ، فان راى فى احتكارها ضررا شديدا نظير الضرر في الطعام منعه والا اجازه اھ (۱/ ۵۵۶، تا ۵۵۸) –
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1