بخدمت مفتیان کرام
دار الافتاء
مکرم و محترم حضرات
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ایک تجارتی معاملے میں شرعی رہنمائی کی درخواست ۔گزارش ہے کہ میں ایک نجی کمپنی میں ملازم ہوں جو غذائی اجناس کی برآمد (ایکسپورٹ) کا کام کرتی ہے۔ ہماری کمپنی کئی یورپی ممالک میں اپنی مصنوعات برآمد کرتی ہے۔
کچھ عرصہ قبل میرے boss نے مجھے ہدایت کی کہ اسپین کے لیے کوئی نیا خریدار (بائر) تلاش کیا جائے ۔ اسپین Spain میں ہمارا ایک ڈسٹری بیوٹر (distributor) پہلے سے موجود ہے جو جرمنی، پرتگال اور اسپین میں کام کرتا ہے۔ تاہم اس کا اصل کاروبار جرمنی میں مضبوط ہے جبکہ اسپین میں اس کا کاروبار بہت کم ہے ۔ اس وجہ سے میرے boss نے مجھ سے کہا کہ اسپین کے لیے کوئی نیا ڈسٹری بیوٹر ڈھونڈا جائے۔
حال ہی میں میرے boss کی جرمنی کی ڈسٹری بیوشن کمپنی سے ملاقات ہوئی اور جرمنی میں کاروبار کو مزید وسعت دینے کے منصوبے بنائے گئے۔ اس کے ساتھ ہی اسپین سے ایک نئے خریدار کی طرف سے درخواست (انکوائری) بھی موصول ہوئی۔جب میں نے اپنے boss کو اسپین کی اس نئی انکوائری کے بارے میں بتایا تو انہوں نے فکر ظاہر کی کہ اگر ہم اسپین میں براہ راست کسی نئے ڈسٹری بیوٹر کو مال فروخت کریں تو اس سے جرمنی میں ہمارے موجودہ ڈسٹری بیوٹر کے ساتھ تعلقات خراب ہو سکتے ہیں اور نئے منصوبے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ میں اپنے ایک دوست کے ساتھ مل کر ایک علیحدہ کاروبار شروع کروں۔ ہم دونوں کافی عرصے سے مل کر کوئی کاروبار کرنا چاہتے تھے۔میرا منصوبه یه ہے که میں اور میرا دوست مل کر اپنی کمپنی سے مال خریدیں گے - یعنی باقاعدہ خریداری کریں گے۔یه مال ہم فرانس میں ایکسپورٹ کریں گے، کیونکہ میرے boss نے فرانس میں برآمد کرنے کی اجازت دی ہوئی ہے۔فرانس میں وہی خریدار جس نے اسپین سے انکوائری بھیجی تھی وہ ہمارا مال فرانس میں وصول کرے گا اور فرانس کے ساتھ ساتھ کچھ مقدار اسپین میں بھی تقسیم کرے گا۔
اس خریدار نے یہ بھی اتفاق کیا ہے کہ اگر کبھی ہمارے موجودہ ڈسٹری بیوٹر کی طرف سے کوئی شکایت یا اعتراض سامنے آئے تو ہم فوری طور پر اس کے ساتھ کاروبار بند کر دیں گے - یعنی یہ کاروبار اس شرط کے ساتھ ہے کہ کسی کا نقصان نہ ہو۔4سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کا کاروبار کرنا شرعاً جائز ہے ؟ کیا یہ میرے boss کے ساتھ بے وفائی یا دھوکہ شمار ہوگا؟ یا چونکہ میں باقاعدہ مال خرید رہا ہوں اور آجر کی اجازت سے فرانس میں برآمد کر رہا ہوں، اس لیے یہ جائز ہے؟ براہ کرم شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔اللہ تعالیٰ آپ حضرات کو جزائے خیر عطا فرمائے اور آپ کے علم و عمل میں برکت دے۔ آمین۔والسلا م خاکسارTalha03132548928 رابطه نوٹ : میں خریدار کو بول چکا ہوں کے آپکا فوکس فرانس ہونا چاہئے۔ یعنی اسپین میں سیل کرنا نہیں فرانس میں سیل پر زور دیتا ہے ۔
سائل جس کمپنی کا ملازم ہے اس میں اس کی بنیادی ذمہ داری ہی یہ ہے کہ وہ کمپنی کا مال نکالے اور فروخت کرنے کی صورتیں تلاش کرے چنانچہ وہ کمپنی مالک کا وکیل بالبیع ہے جس کے لئے خود خریدار بننا شرعا جائز نہیں ہوتا ۔لہذا سائل کا کمپنی مالک کے علم میں لائے بغیر کمپنی کا مال خرید کر کمپنی کے توسط سے آنے والے ایک دوست کو برآمد (ایکسپورٹ) کرکے اس کے ساتھ کاروبار کرنا درست نہیں ، البتہ اگر سائل کمپنی مالک کو بتا کر دوست کے ساتھ شراکت کرے اور کمپنی کا مال فرانس میں ایکسپورٹ کر کے کاروبار کرے تو شرعا اس کی گنجائش ہے۔
كما فى الدرالمختار : والخاص لا يمكنه أن يعمل لغيره؛ لأن منافعه في المدة صارت مستحقة للمستأجر والأجر مقابل بالمنافع ولهذا يبقى الأجر مستحقا وإن نقض العمل ،قال أبو السعود: يعني وإن نقض عمل الأجير رجل، بخلاف ما لو كان النقض منه فإنه يضمن كما سيأتي(قوله حتى يعمل) لأن الإجارة عقد معاوضة فتقتضي المساواة بينهما، فما لم يسلم المعقود عليه للمستأجر لا يسلم له العوض والمعقود عليه هو العمل أو أثره على ما بينا فلا بد من العمل زيلعي والمراد لا يستحق الأجر مع قطع النظر عن أمور خارجية.(ج:٦،ص:٦٤ ،ط : سعيد)
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1