محترم مفتی صاحب السلام عليكم ورحمة الله وبركاته !امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ گزارش ہے کہ درج ذیل معاملے میں شرعی رہنمائی درکار ہے،میرے والد نے سن 2013 میں ہمارے گاؤں میں موجود چیر کے 20 درخت ایک شخص کو 2,20,000 روپے میں فروخت کیے تھے۔ اس سلسلے میں باقاعده معابده بھی ہوا تها کہ خریدار یہ درخت کاٹ لے گا۔لیکن اب تک یعنی 2026 تک تقریباً 13 سال گزرنے کے باوجود خریدار نے یہ درخت نہیں کاٹے، حالانکہ ہم نے کئی مرتبہ انہیں زبانی اور تحریری طور پر اجازت بھی دی کہ وہ آ کر درخت کاٹ لے۔اس دوران ایک درخت سوکھ کر گر گیا تھا، جسے انہوں نے کاٹ لیا ۔اب 19 درخت باقی ہیں ۔اب موجودہ صورتحال یہ ہے کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ اب خریدار کو درخت نہ دیے جائیں بلکہ انہیں ان کی بقایہ رقم تقریباً 2 لاکھ روپے واپس کر دی جائے،لیکن خریدار کا مطالبہ یہ ہے کہ وہ 2 لاکھ روپے نہیں لیں گے بلکہ اس کے بجائے 6 لاکھ روپے کا تقاضا کر رہے ہیں، یعنی 4 لاکھ روپے اضافی لینا چاہتے ہیں،اب ہمارے سوالات درج ذیل ہیں،کیا اتنے طویل عرصے 13 سال کے بعد بھی خریدار کا درختوں پر حق برقرار ہے؟،کیا ہمارے لیے یہ لازم ہے کہ ہم اسے درخت دیں یا ہم رقم واپس کر سکتے ہیں؟،اگر رقم واپس کی جائے تو کیا صرف اصل رقم دینا کافی ہے یا اضافی رقم دینا بھی ضروری ہے؟،کیا خریدار کا 6 لاکھ روپے کا مطالبہ شرعاً جائز ہے؟،کیا اتنے عرصے تک درخت نہ کاٹنے کی وجہ سے معاہدہ ختم )(فسخ) ہو جاتا ہے؟،کیا اس عرصے میں ہماری زمین ان درختوں کی وجہ سے شرعاً مقید رہی؟،براه کرم قرآن و سنت کی روشنی میں اس مسئلے کا واضح اور مدلل جواب عنایت فرمائیں۔جزاكم الله خيراً
صورت مسئولہ میں جب سائل کے والد مرحوم نے خریدار کے ساتھ عقدبیع کر کے مذکورہ متعین درخت بیچ دیے تھے اور قیمت بھی وصول کر لی تھی،تو اس سے عقد بیع تام ہو کر مذکور شخص ان درختوں کامالک بن چکا تھا، اب سائل اور مرحوم کے دیگر ورثا ء کی طرف سے سابقہ عقد بیع کوختم کرکے درختوں کو اپنے قبضہ میں لینا شرعا درست نہیں اور نہ ہی انہیں اس کا حق ہے،تاہم خریدار شخص کا مالک ِزمین کی اجازت کے بغیر درختوں کو ان کی زمین پر برقرار رکھ کر ان کی زمین کو مشغول رکھنا شرعا جائز نہیں، اس لیے اس پر لازم ہے کہ فوری طور پر درختوں کو کاٹ کر زمین مالکان کے لیے فارغ کر دے اور اگر عرصہ دراز تک درخت نہ کاٹنے کی وجہ سے ان درختوں کی جسامت میں بڑھوتری ہوئی ہو، جس کی وجہ سے ان درختوں کو کاٹنے سے زمین کو غیر معمولی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں سائل اور د کو یہ معاملہ فسخ کرنے کا اختیار ہوگا ،لیکن اگر خریدار اس معاملے کو فسخ پر اب رضامند نہ ہو اور سائل بذریعہ عدالت معاملہ فسخ کرنے کے بجائے باہمی رضامندی سے ان درختوں کی کوئی مناسب قیمت طے کر کے خریدار کو اس کی ادائیگی کر کے درخت اس سے واپس لے لیں تو ا س کی بھی شرعاگنجائش ہے۔
کما فی الدر المختار: هومبادلة شيء مرغوب فيه بمثله على وجه مخصوص أي بإيجاب أو تعاط، أما القول فالإيجاب والقبول وهما ركنه. وشرطه أهلية المتعاقدين. ومحله المال.وحكمه ثبوت الملك.(کتاب البیوع،ج:4،ص:501،ط:سعید)
وفی ردالمحتار: مطلب شرى شجرة وفي قلعها ضرر(قوله يقطعه من وجه الأرض) عبارة الملتقط يقطعها. وفيه أيضا إذا اشترى أشجارا من وجه الأرض وفي قطعها بالصيف ضرر فللبائع أن يدفع إليه قيمتها وهي قائمة إلا أن يتراضيا على تركها إلى وقت لا ضرر في قطعها۔(باب المتفرقات،ج:5،ص:238،ط:سعید)
وفي الھندیۃ: لو اشترى أشجارا للقطع من وجه الأرض وفي القطع ضرر بالأرض وأصول الشجر فليس له أن يقطع لأن فيه ضررا لصاحب الأرض فله أن يدفع الضرر وينتقض البيع وهو المختار لأنه عجز عن التسليم معنى كذا في محيط السرخسي. وفي فتاوى أبي الليث ومن اشترى أشجارا ليقطعها من وجه الأرض فلم يفعل حتى أتى على ذلك مدة وجاء أوان الصيف وأراد المشتري أن يقطعها فإن لم يكن في القطع ضرر بين بالأرض وأصول الأشجار له أن يقطع لأنه تصرف في ملكه وإن كان فيه ضرر بين فليس له أن يقطع دفعا للضرر عن صاحب الأرض وأصول الأشجار وإذا لم يكن للمشتري ولاية القطع في هذه الصورة ماذا يصنع اختلف المشايخ فيه قيل يدفع صاحب الأرض قيمة الأشجار إلى مشتريها وتصير الأشجار له واختلفوا فيما بينهما أنه يدفع قيمتها مقطوعة أو قيمتها قائمة عامتهم على أنه يدفع قيمتها قائمة وهو الصحيح وقيل ينتقض البيع بينهما في الأشجار ويرد صاحب الأرض على المشتري ما دفع إليه من ثمن الأشجار وبه كان يفتي الفقيه أبو جعفر - رحمه الله تعالى - واختاره الصدر الشهيد في واقعاته كذا في المضمرات(کتاب البیوع،ج:3،ص:36،ط:ماجدیۃ)
وفيها ايضا: ولو اشترى تالة صغيرة وتركها بإذن البائع حتى كبرت وصارت عظيمة كان للبائع أن يأمر بقلعها ويكون الكل للمشتري وإن تركها بغير إذن البائع حتى أثمرت يتصدق المشتري بالثمر كذا في فتاوى قاضي خان(کتاب البیوع،ج:3،ص:39،ط:ماجدیۃ)
وفی فقہ البیوع : ثم القبض عرّفه الفقهاء بعباراتٍ مختلفة، فجاء في القوانين الفقهية لابن جزى: القبض عبارة عن حيازة الشيئ والتمكن منه، سواء أكان مما يمكن تناوله باليد أو لم يكن(الی قولہ)اتفقت المذاهب الأربعة على أن القبض فى العقار يحصل بالتخلية(الی قولہ)وذكر النووي رحمه الله تعالى في شرح المهذب أن في معنى الأرض الشجر الثابت والثمرة المبيعة على الشجر قبل أوان الجذاذ.(المبحث الثالث فی احکام البیع،ج:1،ص:397/398،ط:معارف القرآن)
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1