مفتی صاحب عرض ہے کہ میں نےاپنے چھوٹے بھائی کو پچاس گز زمین گفٹ کر دیا تھا ،اور اس کے نام کردیا تھا اب اس کا انتقال ہو گیا ، ان کی ایک بیوہ ہے ، اولاد کوئی نہیں ،اسلم کے علاوہ دو بھائی ایک بہن ہے ، یہ مکان کس کی ملکیت ہو گی ؟
سائل نے مذکور مکان اگر فقظ اپنے بھائی کے نام کیا ہو ،ا سے اس پر باضا بطہ مالکانہ قبضہ نہ دیا ہو تب بھی شرعاً مذکور مکان بدستور سائل ہی کی ملکیت شمار ہو گا، لیکن اگر سائل نے مذکور مکان اپنے بھائی کے نام کرنے کے ساتھ ا سے اس مکان پر باضا بطہ مالکانہ قبضہ بھی دیدیا ہو تو ایسی صورت مین شرعاً سائل کا مرحوم بھائی اپنی زندگی میں اس مکان کا مالک بن چکاتھا ، جوکہ اب مرحوم کی وفات کے بعد مرحوم کا ترکہ شمار ہو گا ،جوکہ سائل سمیت مرحوم کی بیوہ اور بہن بھائیوں کے درمیان حسب حصص شرعی تقسیم ہو گا ۔
و كمافی الہندیۃ : ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض ،الخ( الباب الاول تفسیر الہبۃ ورکنہا،ج: 4 ص: 347 ناشر : المطبعۃ الکبری الامیریۃ)
وفی المبسوط للسرخسی : لا تتم الهبة والصدقة من الصحيح إلا بالقبض،الخ ( باب ہبۃ المریض ،ج:12 ص : 102 ناشر : المطبعۃ السعادۃ )