السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ۔۔ کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں۔ کہ ایک جگہ پر کسی آ دمی نے مسجد بنائی ۔ اور اپنی حیات میں خود ہی متولی خود مختار رہا اسکے انتقال کے بعد کچھ لوگ قابض ہو گئے جبکہ متولی کے بیٹے امامت اور خطابت کی بھی اہلیت رکھتے ہیں اور نظم سنبھالنے کی بھی تو کیا اب متولی بننے کا زیادہ حق انکا ہے یا قابض کا،، شرعی رہنمائی فرما دیجئے ۔
صورتِ مسئولہ میں اگر مسجد کے بانی نے اپنی زندگی میں اپنے بعد کسی شخص کو مسجد کی تولیت کے لیے نامزد نہ کیا ہو، تو محض بعض افراد کا مسجد پر قبضہ کرلینا شرعاً انہیں متولی ہونے کا حق نہیں دیتا۔ بلکہ اگر بانی کے بیٹے دیانت دار، امانت دار اور امامت، خطابت و انتظامِ مسجد کی اہلیت رکھتے ہوں، تو فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق وہ دوسروں کی نسبت تولیت کے زیادہ حق دار ہیں۔ تاہم اگر بانی کے بیٹوں میں تولیت کی اہلیت نہ ہو، تو اہلِ محلہ کے معتبر افراد کی مشاورت سے، یا عدالت کے ذریعے، انہی میں سے کسی مناسب شخص کو مسجد کا متولی نامزد کیا جانا چاہیے۔
کما فی رد المحتار مع الدر المختار: (وما دام أحد يصلح للتولية من أقارب الواقف لا يجعل المتولي من الأجانب)؛ لأنه أشفق.
قوله: (وما دام أحد إلخ): المسألة في كافي الحاكم ونصها: ولا يجعل القيم فيه من الأجانب ما وجد في ولد الواقف وأهل بيته من يصلح لذلك، فإن لم يجد فيهم من يصلح لذلك، فجعله إلى أجنبي، ثم صار فيهم من يصلح له صرفه إليه اهـ. (كتاب الوقف، ج 6، ص 637، دار الفكر)
وفی غنية المستملي: وكذلك ولد الباني وعشيرته من بعده أولى من غيره. (فصل في أحكام المسجد، ص 530، مكتبة نعمانية)