کیا فرماتےہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میں نے اپنی بیٹی کے متعلق حرمت مصاہرت کا ایک فتوی لیا تھا ، جس میں میری بیٹی نے اللہ کو حاضر ناظر جان کر حلفیہ بیان دیا تھا ، جو سچ اور حقیقت تھی، بیان کیا تھا ، لیکن دوسرے فریق کے جھوٹ اور میری بیٹی کے پاس شرعی گواہ نہ ہونے کی وجہ سے جواب جاری تو ہوا ، لیکن اس سب کے باوجود یہ کہا گیا کہ حرمت مصاہرت کا حکم تو نہیں لگایا جاسکتا ، لیکن اگر لڑکی اپنے بیان میں سچی ہے، تو اسکا اپنے شوہر کے ساتھ مزید ازدواجی حیثیت سے رہنا درست نہیں، تو لڑکی میرے گھر میں ہے اور وہ حاملہ ہے، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں بچی کے نان نفقہ ، بچے کی پیدائش کے خرچ اخراجات کا کیا حکم ہے ، کس کے ذمہ ہے؟ اور دوسری بات میری بچی کے حق مہر کا کیا حکم ہے، جوکہ دوتولے سونا ہے ، وہ شوہر کے ذمہ لازم ہے کہ نہیں ، ہم اس کی ادائیگی کا مطالبہ کرسکتے ہیں کہ نہیں؟ جو بھی شرعی حکم ہو، تفصیل سے تحریر فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں چونکہ حرمتِ مصاہرت شرعی شہادت کی عدم موجودگی کی بنا پر قضاءً ثابت نہیں ہوسکی ، لیکن لڑکی اپنے بیان کوحلفیہ طور پر صادق مانتی ہے اور اسی پر قائم ہے، تو اس کے لیے دیانۃًشوہر کے ساتھ ازدواجی تعلق رکھنا جائز نہیں، لہٰذا اس کا علیحدہ رہنا درست ہے، تاہم چونکہ نکاح قضاءً برقرار ہے ، اس لیے بیوی کا نان و نفقہ بدستور شوہر کے ذمہ لازم ہے، اور سائلہ کے بقول اس کی بیٹی حاملہ ہے، اس لیے دورانِ حمل اس کے تمام ضروری اخراجات اور وضعِ حمل کے اخراجات بھی شوہر ہی کے ذمہ ہوں گے، اسی طرح بچے کی پیدائش کے بعد اس کا نان و نفقہ، پرورش اور دیگر ضروریات بلا شبہ باپ کے ذمہ لازم ہوں گی۔
نیز چونکہ نکاح کے بعدازدواجی تعلق قائم ہوچکا ہے، اس لیے مہر (دو تولہ سونا) شوہر کے ذمہ بہرصورت واجب الاداء ہے، اور سائلہ کی بیٹی یااس کے اولیاء(سائلہ ) کو اس کا مطالبہ کرنے کا پورا حق حاصل ہے، البتہ دیانۃً چونکہ اس کے لیے شوہر کے ساتھ رہنا جائز نہیں، تو اس لیے ضروری ہے کہ نکاح کو باقاعدہ طور پر طلاق یا خلع کے ذریعے ختم کیا جائے، تاکہ باقاعدہ قضاءًبھی رشتہ ختم ہوجائےاورسائلہ کی بیٹی وضع حمل کے بعددوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزادہوسکے
کما فی الدر المختار: وشرعا: (هي الطعام والكسوة والسكنى) وعرفا هي: الطعام (ونفقة الغير تجب على الغير بأسباب ثلاثة: زوجية، وقرابة، وملك) بدأ بالأول لمناسبة ما مر أو؛ لأنها أصل الولد (فتجب للزوجة) بنكاح صحيح،
وفی رد المحتار تحت قوله : لمناسبة ما مر) أي من النكاح والطلاق والعدة بحر (قوله أو؛ لأنها أصل الولد) أي؛ لأن القرابة لا تكون إلا بالتوالد، والولد الذي تكون ابنا أو أبا أو أخا أو عما لا يحصل إلا بالزوجية فقدم الكلام عليها لتقدمها فافهم.(باب النفقۃ، ج: ٣، ص: ٥٧٢، مط: سعيد)
وفي الهندية: والمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراء.(الباب السابع في المهر،الفصل الثاني فيما يتأكد به المهر والمتعة، ج: ١، ص: ٣٠٣، مط: ماجدية)
وفي الدر المختار: وفيه أجرة القابلة على من استأجرها من زوجة وزوج ولو جاءت بلا استئجار،
وفی رد المحتارتحت قوله: قيل عليه إلخ) عبارة البحر عن الخلاصة: فلقائل أن يقول عليه؛ لأنه مؤنة الجماع، ولقائل أن يقول عليها كأجرة الطبيب اهـ وكذا ذكر غيره، ومقتضاه أنه قياس ذو وجهين لم يجزم أحد من المشايخ بأحدهما خلاف ما يفهمه كلام الشارح، ويظهر لي ترجيح الأول؛ لأن نفع القابلة معظمه يعود إلى الولد فيكون على أبيه تأمل.(باب النفقۃ، ج: ٣، ص: ٥٧٩، مط: سعيد)
وفي رد المحتار: والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه. والفتوى على أنه ليس لها قتله، ولا تقتل نفسها بل تفدي نفسها بمال أو تهرب، كما أنه ليس له قتلها إذا حرمت عليه وكلما هرب ردته بالسحر. وفي البزازية عن الأوزجندي أنها ترفع الأمر للقاضي، فإنه حلف ولا بينة لها فالإثم عليه. اهـ. قلت: أي إذا لم تقدر على الفداء أو الهرب ولا على منعه عنها فلا ينافي ما قبله. (باب صريح الطلاق، ج: ٣، ص: ٢٥١، مط: سعيد)