سوال یہ ہے کہ دومختلف کرنسیوں کی باہم خرید وفروخت کا شرعاً کیا حکم ہے ؟ آج کل بازار میں ایرانی کرنسی پاکستانی کرنسی کے بدلے اس نیت سے خریدی جا رہی ہے کہ کچھ عرصہ بعد اس کی قیمت بڑھنے پر فروخت کرکے نفع حاصل کیا جائے، مثلاً چھ ہزار پاکستانی روپے کے عوض ایک کروڑ ایرانی ریال خریدے جاتے ہیں۔شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں
واضح ہو کہ مختلف ممالک کی کرنسیاں الگ الگ اجناس کے حکم میں ہیں، لہٰذا،ایک ملک کی کرنسی کا اگردوسرے ملک کی کرنسی کے ساتھ ہاتھ در ہاتھ تبادلہ کیا جائے،تو مذکورہ معاملہ کمی بیشی کے ساتھ شرعاً جائز ہے ۔تاہم حکومتِ وقت کی مقرر کردہ قیمت سے کمی بیشی کے ساتھ فروخت کرنے سے اجتناب کرنا چاہئے۔
كما في فقه البيوع: النقود الورقيه لا يجوز مبادلتها بالتفاضل أو النسيئة في جنس واحد، فلا يجوز بيع ربية واحدة بربيتين، أو بيع ربية بربية مؤجلة، فانه ربا أما إذا اختلف جنسهما مثل ان تباع الربيات الباكستانية با لريالات السعودية، فيجوز فيها التفاضل، ويجوز فيه النسية بشرط أن يقبض أحد العاقدين ما اشتراه ، وإن كان الاخر مؤجلا ، وبشرط أن يكون التّبادل بسعر يوم العقد۔ (2/1175،1176) ۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1