السلام علیکم،
میں HBFC کے ذریعے حکومتِ پاکستان کی ہاؤسنگ فنانس اسکیم کے تحت گھر کے لیے قرض حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ میری معلومات کے مطابق اس اسکیم میں شرحِ منافع 10 سال کے لیے 5% فکسڈ ہے اور ویری ایبل نہیں ہے۔
میں شرعی نقطۂ نظر سے یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اگر شرح 10 سال تک مستقل (Fixed) رہے اور بعد میں تبدیل نہ ہو تو کیا اس صورت میں یہ فنانسنگ حلال سمجھی جائے گی؟ یا اس کی حلت کا انحصار فنانسنگ کے اسلامی معاہدے (مثلاً مرابحہ، اجارہ وغیرہ) پر ہے؟
براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔
جزاک اللہ خیر۔
واضح ہوکہ کسی بھی کاروباری معاملہ کے جوازاورصحت کے لیے فقط شرح منافع کامتعین اورنان ویریبل ہوناکافی نہیں ، بلکہ اصل اعتبار اس معاملے کی حقیقت اور معاہدےکاشرعی ضابطوں کے مطابق ہونابھی ضروری ہے ۔
لہٰذا اگر HBFC کی مذکورہ اسکیم کے تحت کیے جانے والے معاملہ کی بنیادحقیقت میں قرض (Loan) پر مبنی ہو اور اصل رقم کے بدلے متعین یا اضافی رقم وصول کی جاتی ہو،تو یہ معاملہ سود (ربا) کے حکم میں ہوگا، خواہ شرح٪ 5فکسڈ یانان ویری ایبل کیوں نہ ہو؛ کیونکہ قرض پرکسی بھی قسم کامعروف یا مشروط اضافہ شرعاً سود کے زمرے میں آتاہے۔ البتہ اگر فنانسنگ کسی شرعی عقد، مثلاً مرابحہ، اجارہ، شرکت متناقصہ یا دیگر اسلامی طریقۂ تمویل کےتحت سرانجام دی جاتی ہوتواس کی مکمل تفصیل اورمعاہدے کی کاپی کسی بھی مستنددارالافتاءمیں دیکھاکر حکم شرعی معلوم کیاجاسکتاہے۔