السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک آدمی نے انتقال سے قبل، مکمل ہوش و حواس اور اپنی رضا و خوشنودی سے، اپنا مکان محلے کی رجسٹرڈ جماعت کے فلاحی کاموں اور مدرسے کے لیے وقف کیا تھا۔ نیز انہوں نے یہ شرط بھی عائد کی تھی کہ اس جگہ کو نہ فروخت کیا جائے گا اور نہ ہی کسی کے کنٹرول میں دیا جائے گا۔
لہٰذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ:
کیا جماعت والوں کے لیے اس وقف شدہ مکان کو فروخت کرنا جائز ہے؟
اور کیا کسی ادارے یا تنظیم کے لیے اس وقف شدہ مکان کو خریدنا جائز ہے؟
براہِ کرم اس بارے میں تحریری فتویٰ عنایت فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً مذکور مرحوم نے اپنی زندگی میں مکمل ہوش و حواس اور اپنی رضا و خوشنودی سے اپنا مذکورہ مکان محلے کی رجسٹرڈ جماعت کے فلاحی کاموں اور مدرسے کے لیے وقف کردیا تھا، اور وقف کرتے وقت یہ شرط بھی عائد کی تھی کہ اس مکان کو نہ فروخت کیا جائے گا اور نہ کسی کے کنٹرول یا ملکیت میں دیا جائے گا، تو وقف مکمل ہوجانے کے بعد یہ جائیداد وقف کے مقصد کے لیے مختص ہوچکی ہے، لہٰذا جماعت والوں کے لیے اس وقف شدہ مکان کو فروخت کرنا جائز نہیں، بلکہ واقف کی منشا اور تصریح کے مطابق اس مکان کو وقف کردہ امور کے لیے استعمال کرنا لازم اور ضروری ہے۔
کمافی ردالمحتار:(4/433) :شرط الواقف کنصّ الشارع.
وفی قانون العدل والانصاف:(34) : شرائط الواقف معتبرۃ اذا لم تخالف الشرع.