السلام عليكم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!گزارش عرض ہے کہ مجھے والد نے ہبہ میں گھر دیاہے، میں اپنے والدیں کا اکلوتی وارت ہوں، میں اپنا گھر بنانا چاہتی ہوں، اس لئے میری شرعی رہنمائی فرمائیں ، اس لئے میں فتوى لینا چاہتی ہوں، ساتھ میں ہبہ بھی جو گفٹ ہے، اسٹیچ کردیا ہے۔
(نوٹ): گھر باقاعدہ قبضہ مجھے دے دیا تھا، والد صاحب حیدرآباد میں تھے، یہ گھر بھی حیدر آباد میں ہے، والد صاحب نے مکان میرے نام کیا، ہبہ کیا، قبضہ دیا، اور والد صاحب حیدر آباد سے منتقل ہو کر میرے پاس کراچی میں رہنے لگے، وہ مکان میں نے کرائے پر دیا، جب تک والد صاحب حیات تھے،تب بھی کرایہ میں ہی لیتی رہی، اور اب بھی لیتی رہتی ہوں، اب معلوم کرنا ہے کہ کیا اس مکان مىں کسی اور کا حصہ بنتا ہے؟ ہبہ کے کاغذات موجود ہیں۔
صورتِ مسئولہ میں جب سائلہ کے والد مرحوم نے اپنی زندگی میں مذکور گھر سائلہ کو مالکانہ قبضہ کے ساتھ ہبہ کر دیا تھا، اور سائلہ والد مرحوم کی زندگی میں اس کا کرایہ وصول کر تی رہی، تو شرعاً سائلہ اس گھر کی ما لکہ بن چکی ہے، وہ اس میں جس طرح تصرف کرنا چاہے کرسکتی ہے، کسی دوسرے شخص کا اس میں کوئی حصہ نہیں، اور نہ ہی اسے اس مکان میں حصہ داری کا مطالبہ کا حق حاصل ہے، اس لئے ایسے کسی بھی مطالبہ سے احتراز لازم ہے۔
كما في الدرالمختار: (وشرائط صحتها في الواهب العقل والبلوغ والملك) فلا تصح هبة صغير ورقيق (الى قوله) (و) شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) كما سيتضح (وركنها) هو (الإيجاب والقبول) كما سيجيء (وحكمها ثبوت الملك للموهوب له غير لازم) اھ (كتاب الهبة، ج: ٥، ص: ٦٨٧، ط: سعيد)
وفي دررالحكام: لأن للإنسان أن يتصرف في ملكه الخاص كما يشاء وليس لأحد أن يمنعه عن ذلك ما لم ينشأ عن تصرفه ضرر بين لغيره (انظر المادة 1192) (منافع الدقائق، والأشباه اھ(الباب الرابع في بيان المسائل التي تتعلق بمدة الإجارة،ج:١،ص:٥٩٩،ط:دار الجيل)
وفيها ايضاََ: كل يتصرف في ملكه المستقل كيفما شاء أي أنه يتصرف كما يريد باختياره أي لا يجوز منعه من التصرف من قبل أي أحد هذا إذا لم يكن في ذلك ضرر فاحش للغير.(الكتاب العاشر الشركات،الفصل الأول في بيان بعض القواعد المتعلقة بأملاك، ج: ٣، ص: ٢٠١، رقم المادة : ١١٩٢، مط: دار الجيل)