السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ،
مفتی صاحب، میں ایک انتہائی نازک اور پریشان کن معاملے میں شرعی رہنمائی چاہتی ہوں۔ میری صورتحال درج ذیل ہے:
1۔ میں اس وقت برطانیہ (UK) میں مقیم ہوں اور میرا تیسرا حمل ہے، جس کو ابھی 9 ہفتے (تقریباً دو ماہ) گزرے ہیں۔ یعنی ابھی روح پھونکے جانے کی مدت (120 دن) نہیں ہوئی۔2۔ میرے پہلے ہی دو بہت چھوٹے بچے ہیں۔ ایک بچے کی عمر 2 سال اور دوسرے کی عمر صرف 1 سال ہے۔ ان دونوں بچوں کے درمیان خود بھی صرف 11 ماہ کا بہت قلیل وقفہ تھا۔3۔ بیک وقت دو اتنے چھوٹے بچوں کی پرورش، گھر کی ذمہ داریاں اور بیرونِ ملک فیملی سپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے میں اس وقت شدید ترین ذہنی دباؤ، اعصابی تھکن اور اینگزائٹی (Severe Mental Burnout) کا شکار ہوں۔ میری جسمانی اور ذہنی صحت اس قابل بالکل نہیں ہے کہ میں اس تیسرے حمل کو برقرار رکھ کر ایک اور بچے کی ذمہ داری اٹھا سکوں۔ مجھے ڈر ہے کہ اس صورتحال میں، میں اپنے موجودہ بچوں کی صحیح پرورش بھی نہیں کر پاؤں گی اور میری اپنی ذہنی صحت مزید تباہ ہو جائے گی۔قرآن و سنت اور فقہِ حنفی کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں کہ کیا ان شدید ترین حالات اور عذر کی بنیاد پر، 120 دن (روح پھونکے جانے) سے پہلے، 9 ہفتے کے اس حمل کو ضائع (Abortion) کروانے کی شرعاً گنجائش موجود ہے؟
میں انتہائی ذہنی دباؤ میں ہوں، براہِ کرم جلد از جلد جواب کاپی کر کے رہنمائی فرمائیں۔جزاک اللہ خیراً۔
صورتِ مسئولہ میں سوال میں ذکر کردہ وجوہات کی بنا پر اگر کوئی ماہر ڈاکٹر اور معالج بھی سائلہ کے حق میں حمل کو نقصان دہ قرار دیکر اس کو ساقط کرنے کا مشورہ دے تو ایسی صورت میں چار ماہ پورے ہونے سے قبل سائلہ اپنا حمل ساقط کروا سکتی ہے۔ تاہم چار ماہ پورے ہونے پر حمل ساقط کروانا جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی الدر المختار : «ويكره أن تسقى لإسقاط حملها … وجاز لعذر حيث لا يتصور۔۔۔۔وإن أسقطت ميتا ففي السقط غرة … لوالده من عاقل الأم تحضر» الخ
و فی الشامیۃ : تحت «(قوله ويكره إلخ) أي مطلقا قبل التصور وبعده على ما اختاره في الخانية كما قدمناه قبيل الاستبراء وقال إلا أنها لا تأثم إثم القتل (قوله وجاز لعذر) كالمرضعة إذا ظهر بها الحبل وانقطع لبنها وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاك الولد قالوا يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام الحمل مضغة أو علقة ولم يخلق له عضو وقدروا تلك المدة بمائة وعشرين يوما، وجاز لأنه ليس بآدمي وفيه صيانة الآدمي خانية (قوله حيث لا يتصور) قيد لقوله: وجاز لعذر والتصور كما في القنية أن يظهر له شعر أو أصبع أو رجل أو نحو ذلك الخ (کتاب الحظر و الاباحۃ فرع: یکرہ اعطاء سائل المسجد ج:6 ص:429 ط: سعید۔کراتشی)۔
عورت کے پستان کو اور مرد کے عضو خاص کو بڑھانے کے لیے دواء یا کریم استعمال کرنے کا حکم
یونیکوڈ علاج و دواء 0Bone Marroz یعنی ایک انسان کی ہڈی کے اندر کا گودا ،کسی مریض کی Vein میں داخل کرنا
یونیکوڈ علاج و دواء 0ادارے کے ڈاکٹر کا مریضوں کو مفت ٹیسٹ کے بجائے پرائیویٹ ٹیسٹ کی ترغیب دینے کا حکم
یونیکوڈ علاج و دواء 0کمپنی کے ملازمین کا علاج معالجہ کے لیے میڈیکل انشورنس کارڈ کی سہولیت استعمال کرنا
یونیکوڈ علاج و دواء 0