میرے والد کا انتقال 1992ء میں ہوگیا تھا، میرے دادا کا ایک 120 گز کا مکان تھا، دادا نے 1982ء میں یہ مکان صرف میرے تایا کے نام کر دیا تھا، لیکن صرف نام کیا تھا، باقاعدہ ملکیت اور قبضہ منتقل نہیں کیا تھا، بعد میں دادا اور دادی دونوں کا بھی انتقال ہوگیا، اب میرے تایا اس مکان کو فروخت کرکے تمام بہن بھائیوں میں حصہ دینا چاہتے ہیں، میرے والد کا انتقال دادا اور دادی سے پہلے ہوگیا تھا، اس لیے میرے چچا کہتے ہیں کہ چونکہ والد اپنے والد (دادا) سے پہلے فوت ہوگئے تھے، اس لیے ان کا کوئی حصہ نہیں بنتا، اور نہ ہی ان کی اولاد (یعنی ہمارا) کوئی حصہ بنتا، مزید یہ کہ تایا، دو چچا اور ایک پھوپھی ہیں، تایا اور دو چچا اسی مکان میں رہتے تھے، جبکہ ہم الگ رہتے ہیں، اب تایا کا بڑا بیٹا یہ مکان خرید رہا ہے، اور تایا تمام بہن بھائیوں کو ان کا حصہ دینا چاہتے ہیں، دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ کیا میرے مرحوم والد کے انتقال دادا سے پہلے ہونے کی وجہ سے ہمارا اس مکان میں شرعاً کوئی حصہ بنتا ہے یا نہیں؟ براہِ کرم اس بارے میں شرعی رہنمائی فرمائیں، جزاکم اللہ خیراً۔
واضح ہو کہ والد کی زندگی میں جس بیٹے یا بیٹی کا انتقال ہوجائے تو اس بیٹے /بیٹی کا اپنے والدین کے ترکہ میں شرعاً کوئی حصہ نہیں ہوتا لہذا صورت مسئولہ میں سائل کے مرحوم والدکاانتقال چونکہ اپنے والد (دادا) کی زندگی میں ہوگیاتھا،اس لیے سائل کے تایاکا اپنے والد(سائل کےدادا)کے ترکہ میں مرحوم بھائی (سائل کے والد)اوراس کی اولادکاحصہ نہ ہونے کادعوی شرعاًدرست ہے،چنانچہ سائل اوراس کے دیگربہن بھائیوں کومذکورمکان میں حصہ داری کامطالبہ کرنےکاحق حاصل نہیں، البتہ اگر دادامرحوم کے ورثاء(تایا،چاچا،پھوپھی وغیرہ ) اپنی رضامندی سے انہیں بطورصلہ رحمی کچھ دینا چاہیں تو انہیں اس بات کا مکمل اختیار حاصل ہے،جویقیناًان کے لیے باعث اجروثواب ہوگا، تاہم ایساکرناان پرلازم نہیں ،اس لیے سائل اوراس کے بہن بھائیوں کوازخودان سے مطالبہ کرنے سے احترازچاہیے۔
کما فی ردالمحتار: تحت (قوله هي علم بأصول إلخ) (الی قولہ) وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل والعلم بجهة إرثه،الخ (ج6 ص 758 کتاب الفرائض ط سعید)۔
وفی تکملۃ فتح الملھم: وقد ذکر الإمام أبو بکر الجصاص الرازی رحمہ اللہ فی أحکام القرآن والعلامۃ العینی فی عمدۃ القاری ، الإجماع علی أن الحفید لا یرث مع الابن، الخ(ج2 ص 18 باب ألحقو الفرائض بأھلھا ط دارالعلوم کراتشی)۔