کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ، میں ایک شادہ شدہ آدمی ہوں، ایک دوسری لڑکی کو لیکر میرے اپنے سسرالیوں سے کچھ باتیں ہوئی ، جس پر غصہ میں آکر میں نے یہ کہا " کہ میں اپنی بیوی کو مطلقہ رکھوں گا اگر میں نے اس لڑکی سے نکاح نہ کیا " یہ صرف ایک مرتبہ بولا ہے اور وقت کی بھی تعیین نہیں کی ،اب اگر اس لڑکی کا نکاح کہیں اور ہوجاتا ہے تو کیا میری بیوی کو طلاق واقع ہوگی ؟ اور کون سی ہوگی ؟جو بھی حکم شرعی ہو تحریر فرمائیں ۔
سوال میں ذکر کردہ جملہ " میں اپنی بیوی کو مطلقہ رکھوں گا اگر میں نے اس لڑکی سے نکاح نہ کیا " طلاق معلق کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ،لہذا صورت مسئولہ میں سائل کے مذکور الفاظ کہہ دینے سے اگرچہ اس کی بیوی پر ایک طلاق رجعی معلق ہوچکی ہے ،لیکن اس لڑکی کے ساتھ نکاح کرنے کے لئے چونکہ کسی وقت کا تعین نہیں کیا گیا ، اس لئے اس لڑکی کے ساتھ نکاح کرنے کا امکان سائل اور اس لڑکی کی زندگی تک برقرار رہے گا ،اس لئے محض اس لڑکی کا کہیں اور نکاح کرلینے سے سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی ،البتہ اگر سائل یا مذکور لڑکی میں سے کسی کا انتقال ہوجاتا ہے تو ان میں سے کسی کے انتقال کی وجہ سے دونوں کے نکاح کرنے کا امکان ختم ہوکر سائل کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوجائے گی اور سائل کے زندہ رہنے کی صورت میں اسے دوران عدت اپنی بیوی سے رجوع کا اختیار حاصل ہوگا ۔
کما فی الشامیۃ : وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق " وهذا بالاتفاق اھ(ج 3 ص:244)
وفیہ ایضاً: فصار الحاصل أنه إذا كان شرط الحنث عدميا، فإن عجز عن شرط البر بفوات محله لا يحنث وإن مع بقاء المحل حنث سواء كان المانع حسيا أو لا، وكذا لو كان المانع كونه مستحيلا عادة، كمس السماء، وإن كان الشرط وجوديا لا يحنث مطلقا ولو كان المانع غير حسي في المختار، وهذا ما تحرر لي من كلامهم، والله تعالى أعلم فافهم (ج 3 ص:383 باب طلاق المریض ط:سعید )
وفی بدائع الصنائع : ثم نبین أعیان الشروط التي تعلق بھا الطلاق والعتاق علی التفصیل، ومعنی کل واحد منھما حتی إذا وجد ذلک المعنی یوجد الشرط، فیقع الطلاق والعتاق وإلا فلا.
أما الأول: فلأن الیمین بالطلاق والعتاق ھو تعلیق الطلاق والعتاق بالشرط، ومعنی تعلیقھما بالشرط وھو إیقاع الطلاق والعتاق في زمان ما بعد الشرط لا یعقل لہ معنی آخر، فإذا وجد رکن الإیقاع مع شرائطہ لا بد من الوقوع عند الشرط (کتاب الأیمان، فصل في حکم ھذہ الیمین: 70/4، دار الکتب العلمیة)
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0