ٹیسٹ ٹیوب بے بی

سپرم کمزور ہونے کی وجہ سے آئی یو آئی یا آئی وی ایف کروانے کا حکم

فتوی نمبر :
98008
| تاریخ :
2026-07-31
معاشرت زندگی / علاج و معالجہ / ٹیسٹ ٹیوب بے بی

سپرم کمزور ہونے کی وجہ سے آئی یو آئی یا آئی وی ایف کروانے کا حکم

اگر میاں کے سپرمز (مادۂ منویہ) کمزور ہوں اور ڈاکٹر نے آئی یو آئی (IUI) کا مشورہ دیا ہو، تو کیا میاں بیوی کے لیے آئی یو آئی یا پھر آئی وی ایف (IVF) کروانا جائز ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ "IVF" اور ٹیسٹ ٹیوب کے جتنے طریقے رائج ہیں، ان سب طریقوں میں سخت ضرورت کے وقت فقط اس طریقہ کار کو اپنانے کی گنجائش ہے کہ مادہ منویہ اپنے زندہ شوہر کا ہو اور پھر شوہر اور بیوی کے نطفے کا باہم اختلاط کرکے یہ ٹیوب بیوی کے رحم میں رکھ دی جائے جہاں وہ پرورش پائے، اور یہ عمل خود بیوی یا اس کے شوہر یا کسی لیڈی ماہر معالج سے کروایا جائے اور اس دوران ستر و حجاب کا پورا خیال رکھا جائے کہ ضرورت سے زیادہ نہ کھولا جائے، لہٰذا اگر فطری طریقہ کار کے مطابق حصولِ اولاد میں رکاوٹ ہو، اور "IVF"یا"IUI"کے ذریعے حصولِ اولاد کےلئے اختیار کردہ طریقہ کار میں اس بات کا یقین ہو کہ اس عمل میں کسی غیر مرد کے نطفے کا استعمال نہ ہوگا تو ایسی صورت میں بمجبوری میاں بیوی کیلئے "IVF"یا"IUI" کا مندرجہ بالا طریقہ کار اختیار کرنے کی گنجائش ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الفقہ الإسلامی وأدلتہ: التلقيح الصناعي: هو استدخال المني لرحم المرأة بدون جماع. فإن كان بماء الرجل لزوجته، جاز شرعاً، إذ لا محذور فيه، بل قد يندب إذا كان هناك ما نع شرعي من الاتصال الجنسي.وأما إن كان بماء رجل أجنبي عن المرأة، لا زواج بينهما، فهو حرام؛ لأنه بمعنى الزنا الذي هو إلقاء ماء رجل في رحم امرأة، ليس بينهما زوجية. ويعد هذا العمل أيضا منافياً للمستوى الإنساني، ومضارعاً للتلقيح في دائرة النبات والحيوان اھ (فصل فی الحذر و الاباحۃ،ج:3،صـــ:552،ط:رشیدیہ)۔
و فی مجلة مجمع الفقه الإسلامي :ومن هنا نستطيع أن نقرر بالنسبة لحكم الشريعة في التلقيح الصناعي الإنساني –أنه إذ كان بماء الرجل لزوجه كان تصرفا واقعا في دائرة القانون والشرائع التي تخضع لحكمها المجتمعات الإنسانية الفاضلة وكان عملا مشروعا لا إثم فيه ولا حرج وهو بعد هذا قد يكون في تلك الحالة سبيلا للحصول على ولد شرعي يذكر به الوالدان وبه تمتد حياتهما وتكتمل سعادتهما النفسية والاجتماعية ويطمئنان على دوام العشرة وبقاء المودة بينهما.أما إذا كان التلقيح بماء رجل أجنبي عن المرأة لا يربط بينهما عقد زواج فإنه يزج بالإنسان في دائرتي الحيوان والنبات ويخرجه عن المستوى الإنساني.ولعل هذه الحالة هي أكثر ما يراد من التلقيح الصناعي عندما يتحدث الناس عنه.وهو في هذه الحالة يكون في نظر الشريعة الإسلامية جريمة منكرة وإثمًا عظيمًا يلتقي مع الزنا في إطار واحد جوهرهما واحد ونتيجتهما واحدة وهي وضع ماء رجل أجنبي قصدًا في حدث ليس بينه وبين ذلك الرجل عقد ارتباط بزوجية شرعية يظلها القانون الطبيعي والشريعة السماوية ولولا قصور في صورة الجريمة لكان حكم التلقيح في تلك الحالة هو حكم الزنا الذي حددته الشرائع الإلهية، وينبو عنه المستوى الإنساني الفاضل وينزلق به إلى المستوى الحيواني الذي لا شعور فيه للأفراد برباط المجتمعات الكريمة وحسب من يدعون إلى هذا التلقيح ويشيرون به على أرباب العقم تلك النتيجة المزدوجة التي تجمع بين الخستين داخل النسب وعار مستمر إلى الأبد.اھ(أطفال الأنابيب،ج:2،ص:155،ط:منظمة المؤتمر الاسلامي بجدة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد جنید رفیض الدین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 98008کی تصدیق کریں
0     33
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • نرینہ اولاد کے حصول کیلئے" ٹیسٹ ٹیوب بے بی" کا سہارا لینا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   ٹیسٹ ٹیوب بے بی 1
  • نرینہ اولاد کیلئے ٹیسٹ ٹیوب بے بی کا سہارا لینا

    یونیکوڈ   ٹیسٹ ٹیوب بے بی 0
  • آئی وی ایف(IVF) کے ذریعہ علاج کا حکم

    یونیکوڈ   ٹیسٹ ٹیوب بے بی 1
  • ٹیسٹ ٹیوب بے بی کاحکم

    یونیکوڈ   ٹیسٹ ٹیوب بے بی 0
  • آئی وی ایف وغیرہ ذرائع سے اولاد کے حصول کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   ٹیسٹ ٹیوب بے بی 0
  • سپرم کمزور ہونے کی وجہ سے آئی یو آئی یا آئی وی ایف کروانے کا حکم

    یونیکوڈ   ٹیسٹ ٹیوب بے بی 0
Related Topics متعلقه موضوعات