ایک شخص نے سامان معلوم قیمت پر ادھار پر خریدا، سامان وصول کرنے اور استعمال کرنے کے بعد اس نے پختہ وعدہ کیا کہ وہ مقررہ مدت کے اندر طے شدہ قیمت ادا کر دے گا، لیکن ایک ماہ بعد اس نے یہ دعویٰ کیا کہ فروخت کرنے والے نے اس سے بہت زیادہ (فاحش) غبن کیا ہے۔ اس دعوے کے باوجود وہ سامان بدستور استعمال کرتا رہا، اور اپنی رائے کے مطابق صرف اتنی رقم ادا کی جتنی وہ اس سامان کی اصل قیمت سمجھتا تھا، اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ جس قیمت پر خرید و فروخت کا معاہدہ ہوا تھا، اسے مکمل طور پر ادا کرنا اس پر لازم نہیں، حالانکہ یہ خریدار دینی مدرسے کا فارغ التحصیل ہے اور تخصص فی الفقہ کر رہا ہے، اب درج ذیل سوالات ہیں:
1. کیا اس خریدار کو، فاحش غبن کا دعویٰ کرنے کے باوجود، سامان مسلسل استعمال کرتے رہنے کے بعد بھی خیارِ غبن حاصل رہے گا؟
2. کیا اس کا یہ دعویٰ درست ہے کہ طے شدہ معاہدہ کے مطابق پوری قیمت ادا کرنا اس پر واجب نہیں؟
3. کیا اس قسم کے معاملات اور اس طرزِ عمل کی بنا پر اس مفتی کی عدالت (شرعی دیانت و ثقاہت) ساقط ہو جاتی ہے؟
واضح ہو کہ ادھار خرید و فروخت کی صورت میں عام طور پر زیادہ قیمت متعین کی جاتی ہے، چنانچہ صورت مسئولہ میں سائل نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ یہ غبن(اضافی رقم)بیع مؤجل کی بناء پرتھی یا اس کے علاوہ کسی اور وجہ سے زیادہ قیمت طے کی گئی تھی ، تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا ، تاہم صورت مسئولہ میں اگو مذکورہ قیمت بیع مؤجل (ادھار خرید و فروخت) کی بنیاد پر باہمی رضامندی سے طے ہوئی تھی اور مارکیٹ میں بھی اتنی زیادتی مروج ہو تو ایسی صورت میں خریدار کو خیار غبن حاصل نہ ہوگا، لیکن اگر مذکورہ زیادتی مارکیٹ میں رائج نہ ہو اورعام تجار کے ہاں بھی یہ غبن فاحش کہلاتا ہو توا یسی صورت میں خریدار کو اگر چہ خیار غبن حاصل تھا ، لیکن چونکہ اس علم کے باوجود وہ خریدار مذکور سامان کو واپس کرنے کے بجائے بدستور استعمال کرتا رہا، تو اس کی وجہ سے اس کا خیار غبن ساقط ہوچکا ہے، لہذا اب خریدار کا یکطرفہ کم قیمت کی ادائیگی پر مصر رہنا اور طے شدہ قیمت ادانہ کرنا شرعاً جائز نہیں، جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے۔
كما في شرح المجلة: المشتری الذی حصل لہ تغریر اذا اطلع علی الغبن الفاحش ثم تصرف فی المبیع تصرّف الملاک سقط حق فسخہ(الى قوله) قال في الأنقروية نقلاً عن حاوي القنية: ولو تصرف المشتري المغبون في المبيع تصرف الملاك بعد ما عرف الغبن فيه، لا يرده ولو تصرف فيه تصرف الأمانة، يرده به، (الفصل السابع في الغبن و التغرير، المادۃ:۳۵۹،ص: ٣٤٠، مط:اسلامية )
وفي الهندية: الأصل أن المشتري متى تصرف في المشترى بعد العلم بالعيب تصرف الملاك بطل حقه في الرد(كتاب البيوع، الفصل الثالث فيما يمنع الرد بالعيب وما لا يمنع، ج: ٣، ص: ٧٥، مط: ماجدية)
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1