السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میں فقہِ حنفی کی پیروی کرتا ہوں اور اس مسئلے کا جواب فقہِ حنفی کے مطابق چاہتا ہوں۔
میرا سوال آن لائن ری سیلنگ (Reselling) کے متعلق ہے۔
میں Meesho جیسے کسی آن لائن پلیٹ فارم پر ری سیلنگ کرنا چاہتا ہوں۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ پلیٹ فارم پر مختلف سپلائرز کی مصنوعات درج ہوتی ہیں۔ میں ان مصنوعات کو اپنے گاہک کو دکھاتا ہوں اور اس میں اپنا منافع (Margin) شامل کرکے قیمت بتاتا ہوں۔ اگر گاہک آرڈر کی تصدیق کردے تو میں وہی آرڈر Meesho پر دے دیتا ہوں۔ پھر وہ پروڈکٹ براہِ راست سپلائر کی طرف سے گاہک کے پتے پر پہنچا دی جاتی ہے۔ پروڈکٹ کبھی بھی میرے قبضے یا ملکیت میں نہیں آتی۔
میری پریشانی یہ ہے کہ میں گاہک کو یہ نہیں بتاتا کہ پروڈکٹ Meesho سے آرہی ہے یا فلاں سپلائر کی ہے؛ کیونکہ اگر میں اسے یہ بتادوں تو اکثر گاہک خود اسی پلیٹ فارم سے آرڈر کرلیتا ہے، جس کی وجہ سے میرے لیے کمائی کا کوئی ذریعہ باقی نہیں رہتا۔
اس سلسلے میں میرے دو سوال ہیں:
1۔ کیا اس طرح کی ری سیلنگ، جس میں پروڈکٹ میری ملکیت یا قبضے میں نہیں آتی اور سپلائر براہِ راست گاہک کو پروڈکٹ بھیج دیتا ہے، فقہِ حنفی کے مطابق جائز ہے یا نہیں؟
2۔ اگر یہ طریقہ جائز نہیں ہے تو کیا میری کمائی اس صورت میں حلال ہوجائے گی کہ میں آرڈر لینے سے پہلے گاہک کو واضح طور پر بتادوں:
"جناب! میں ایک آزاد ایجنٹ ہوں۔ میں آپ کے لیے یہ پروڈکٹ فراہم کرنے کا انتظام کرتا ہوں۔ اس پروڈکٹ کی حتمی قیمت ₹_____ ہے، جس میں میری سروس فیس بھی شامل ہے۔ اگر آپ کو مناسب لگے تو آپ آرڈر کرسکتے ہیں۔"
کیا اس طرح پہلے ہی واضح کردینے کے بعد میری سروس فیس لینا فقہِ حنفی کے مطابق جائز اور حلال ہوگا؟
یا کیا میں گاہک کو بتائے بغیر ہی براہِ راست اس طریقے سے کمائی کرسکتا ہوں؟
براہِ کرم قرآن و حدیث اور فقہِ حنفی کی روشنی میں اس مسئلے میں رہنمائی فرمائیں۔
جزاکم اللہ خیراً
واضح ہو کہ کسی چیز کو آگے فروخت کرکے منافع کمانے کے لیے اس چیز کا فروخت کنندہ کی ملکیت اور قبضہ میں ہونا ضروری ہے؛ لہٰذا مسئولہ صورت میں چونکہ سائل پروڈکٹ کا مالک یا قابض نہیں ہوتا، بلکہ گاہک سے آرڈر لینے کے بعد Meesho سے پروڈکٹ خرید کر سپلائر کے ذریعے براہِ راست گاہک کو بھجواتا ہے، اس لیے اس کا بطور فروخت کنندہ مذکورہ پروڈکٹ فروخت کرنا اور اس سے منافع کمانا شرعاً جائز نہیں۔ البتہ اگر سائل پہلے ہی گاہک کو واضح کردے کہ وہ بطور آزاد ایجنٹ اس کے لیے پروڈکٹ فراہم کرنے کا انتظام کرتا ہے اور قیمت میں اس کی متعین سروس فیس شامل ہے، پھر گاہک کی رضامندی سے پروڈکٹ فراہم کرے، تو یہ وکالت یا دلالی کی صورت ہوگی اور متعین اجرت لینا شرعاً جائز ہوگا۔ محض اپنا منافع برقرار رکھنے کے لیے اپنی حیثیت کو مخفی رکھنا اس ناجائز طریقے کو جائز نہیں بناتا۔
كما في بدائع الصنائع: ومنها: وهو شرطُ انعقاد البيع للبائع أن يكون مملوكًا للبائع عند البيع، فإن لم يكن لا ينعقد... وهذا بيع ما ليس عنده، ونهى رسول الله ﷺ عن بيع ما ليس عند الإنسان... (ومنها) القبض في بيع المشتري المنقول، فلا يصح بيعه قبل القبض؛ لما روي أن النبي ﷺ «نهى عن بيع ما لم يُقبض» الخ(5/146،ط:ایچ ایم سعید)
وفی الھدایۃ: قال (ولا یجوز بیع السمک قبل أن یصطاد) لأنہ باع مالایملکہ، (ولا فی حظیرۃ إذا کان لا یوخذ إلا بصید) لأنہ غیر مقدور التسلیم، ومعناہ إذا أخذہ ثم القاہ فیھا لوکان یوخذ من غیر حیلۃ جاز، إلا إذا اجتمعت فیھا بانفسھا ولم یسد علیھا المدخل لعدم الملک، قال: (ولا بیع الطیر فی الھواء) لأنہ غیر مملوک قبل الأخذ وکذا لو ارسلہ من یدہ لأنہ غیر مقدور التسلیم الخ(3/44،ط:دار احیاء التراث العربی)
وفی الدر المختار: وأما الدلال فإن باع العین بنفسہ بإذن ربھا فاجرتہ علی البائع وإن سعی بینھما وباع المالک بنفسہ یعتبر العرف وتمامہ فی شرح الوھبانیۃ.
وفی رد المحتار: تحت (قولہ:یعتبر العرف)فتجب الدلالۃ علی البائع أو المشتری اوعلیھما بحسب العرف جامع الفصولین الخ(4/560،ط:ایچ ایم سعید)
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ: تصح الوكالة بأجر، وبغير أجر، لأن النبي صلى الله عليه وسلم كان يبعث عماله لقبض الصدقات، ويجعل لهم عمولة. فإذا تمت الوكالة بأجر، لزم العقد، ويكون للوكيل حكم الأجير، أي أنه يلزم الوكيل بتنفيذ العمل،الخ( 4/2997،ط:دار الفکر)
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1