میری کمپنی بعض ملازمین میں بونس کی کچھ رقم تقسیم کر رہی ہے، جبکہ اس بونس کی تقسیم کا معیار صرف متعلقہ رپورٹنگ آفیسر/افسرِ بالا کی مرضی اور خواہش ہے۔ اس ناانصافی کی وجہ سے زیادہ تر نچلے درجے کے ملازمین ناخوش ہیں۔ یہ بونس کی رقوم ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے ادا کی جا رہی ہیں۔ کیا میرے لیے اس بونس کی رقم استعمال کرنا جائز ہے؟ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔
سائل کو اگربونس کمپنی کے افسرانِ بالا کی مثبت رپورٹ کی وجہ سے ملا ہو اور وہ کمپنی کے مقررہ ضابطے کے مطابق اس بونس کا مستحق بھی ہو ، تو بعض نچلے درجے کے ملازمین کا اس تقسیم سے ناخوش ہونا، سائل کے لیے اس بونس کی رقم وصول کرنے اور اسے استعمال کرنے کے جواز میں مانع نہیں، بلکہ سائل کے لیے اس رقم کا استعمال جائز ہوگا۔ البتہ اگر سائل خود اس بونس کا مستحق نہ ہو یا اسے کسی ناجائز طریقے سے حاصل کیا ہو تو اس کے لیے اس رقم کا استعمال جائز نہ ہوگا۔
کما فی تنویر الأبصار وشرحہ: الہبۃ ہی شرعاً تملیک العین مجاناً أی بلا عوض، وسببہا إرادۃ الخیر للواہب، وینوی کعوض ومحبۃ وحسن ثناء. (8/423، کتاب الہبۃ ، الدر المنتقی شرح الملتقی : 3/489، کتاب الہبۃ، البحر الرائق :7/483)
وفی الاختیار لتعلیل المختار: الہبۃ وہی العطیۃ الخالیۃ عن تقدم الاستحقاق وہي أمر مندوب وضیع محمود محبوب وقبولہا سنۃ فإنہ قبل ہدیۃ العبد. (2/533، کتاب الہبۃ)
وفی فتح باب العنایۃ: ہی تملیک عین بلا عوض ومعناہا إیصال ما ینفع مالاً کان أو غیرہ. (2/409، کتاب الہبۃ)