السلام علیکم!
میں کینیڈا میں گھر خریدنا چاہتا ہوں۔ اس وقت میں کرائے کے گھر میں رہ رہا ہوں، لیکن موجودہ حالات میں مکمل نقد رقم ادا کرکے گھر خریدنا میرے لیے ممکن نہیں کیونکہ گھروں کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں یہاں Mortgage کے ذریعے گھر خرید سکتا ہوں؟ میرا خیال ہے کہ ہر ماہ جو کرایہ ادا کیا جا رہا ہے وہ ایک خرچ ہے جس سے میرے یا میرے خاندان کے لیے کوئی اثاثہ نہیں بن رہا۔ اس کے برعکس، اگر میں Mortgage پر گھر خریدوں تو کم از کم ادائیگیاں اپنے گھر کی ملکیت کی طرف جائیں گی اور مستقبل میں میرے خاندان کے لیے ایک مستقل اثاثہ بن سکے گا۔براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ کینیڈا میں Mortgage کے ذریعے گھر خریدنے کے لیے بنیادی شرائط کیا ہیں، اور کیا میری موجودہ صورتحال میں یہ ایک مناسب آپشن ہو سکتا ہے؟شکریہ!
واضح ہو کہ مارگیج کے ذریعہ گھر خریدنے کی صورت میں چونکہ سودی معاملہ کرنا پڑتا ہے، اس لیے ایسا کرنا بلاشبہ ناجائز ہے اور اس سے احتراز لازم ہے، البتہ اگر کوئی ادارہ یا بینک وغیرہ کسی مطلوبہ مکان کی باضابطہ خریداری کر کے اس پر اپنا مالکانہ قبضہ بھی کرے اور اس کے بعد ادھار معاملہ کے ذریعے قسطوں پر بیچ دے اور اس طرح قسطوں کے معاملے میں ابتداءً ہی یہ طے کر لیا جائے کہ یہ قسطوں اور ادھار کا معاملہ ہوگا، اس میں کل اتنی قسطیں ہونگی، اور ہر قسط کی مالیت یہ ہوگی، اور کسی قسط کے شارٹ ہونے پر کوئی چارجز بھی وصول نہ کئے جائے ہو ں، اس طرح کا معاملہ شرعاً بھی جائز، اور درست ہوگا اس سے خریدار اپنے ذاتی مکان کا مالک بھی بن سکتا ہے ،جبکہ ہمارے علم کے مطابق اکثر ممالک میں سودی بینکوں کے علاؤہ ایسے بینک اور مالیاتی ادارے بھی وجود میں آچکے ہیں جو شریعت کے اصولوں کے مطابق اور علماء وماہرین کی نگرانی میں کام کررہے ہیں ،اس صورت میں ان غیر سودی مالیاتی اداروں سے مورگیج کے متبادل طریقہ کار کے مطابق معاملہ کیا جاسکتا ہے ۔(ماخوذ از تبویب92420)
کما قال اللہ تعالیٰ: {وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا } [البقرة: 275]
و فی شرح النووی: (لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال هم سواء) هذا تصريح بتحريم كتابة المبايعة بين المترابيين والشهادة عليهما وفيه تحريم الإعانة على الباطل اھ(بَابُ الرِّبَا،ج: 11،ص: 26،مط: دار احیاء التراث)
و فی بحوث فی قضایا فقہیة معاصرة: أما الأئمة الأربعة وجمہور الفقہاء والمحدثین فقد أجازوا البیع الموٴجل بأکثر من سعر النقد بشرط أن یبتّ العاقدان بأنہ بیع موٴجل بأجل معلوم بثمن متفق علیہ عند العقد اھ(ج: 1،ص: 12،مط: دارالعلوم کراتشی)
و فی رد المحتار: ومنها اشتراط أن يعطيه الثمن على التفاريق أو كل أسبوع البعض فإن لم يشرط في البيع بل ذكر بعده لم يفسد اھ(كتاب البيوع،ج: 4،ص: 531،مط: دار الفکر)
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1