السلام علیکم ! عرض یہ ہے کہ میری والدہ (مرحومہ) کے نام پر کچھ جائیداد ہے جو میرے والد ( مرحوم) نے ہی شادی کے بعد میری والدہ (مرحومہ) کے نام پر خریدی تھی، جس کی رجسٹری اور اصل دستاویزات بھی والدہ مرحومہ کے نام پر تھی، اور تاحال ہے ( والد صاحب جب تک زندہ تھے انکا اس جائیداد کے حوالے سے والدہ کیساتھ کوئی تضاد نہیں تھا) والد صاحب نے جائیداد والدہ کے نام پر ہی خریدی تھی، مگر اس کا کرایہ وغیرہ والد صاحب ہی دیکھتے تھے ، جائیداد کی مالیت تقریبا 90 لاکھ کے قریب ہے، اب ہم شریعت کے لحاظ سے تقسیم کرنا چاہتے ہیں، ہم تین بہنیں ہیں کوئی بھائی نہیں، میری نانی (میری والدہ کی ماں ) زندہ ہے، 2 ماموں اور 3 خالائیں زندہ ہیں، نانا ابو انتقال کر چکے ہیں ( جو میری والدہ کی زندگی ) میں ہو چکا ہے ، اس معاملے میں ہماری رہنمائی فرمائیں کہ تقسیم صرف ہم تین بہنوں میں ہوگی یا مندرجہ بالا میری والدہ کے بھائی، بہنیں اور ماں یا دیگر اور کوئی رشتہ دار بھی شامل ہونگے ۔ شکریہ، والد صاحب کے انتقال کے وقت ورثاء میں بیوہ ، تین بیٹیاں اور دو بہنیں حیات تھیں۔
واضح ہو کہ کسی چیز یا جائیدادکو محض کسی کے نام کرنے یا ز بانی طورپر کسی کو دیدینے سے شرعاًوہ اس کی ملکیت نہیں بنتی، جب تک اسے اس چیز پر مالکانہ قبضہ اور تصرف کا مکمل اختیار نہ دیدیا جائے ، لہذا صورت مسئولہ مىں اگروالدنے مذکورہ جائیداد صرف اپنی بیوی كے نام كى ہو اور اسے باقاعده مالكانہ قبضہ اور تصرفات كا اختيار نہ ديا ہو تو محض کاغذات میں نام درج ہونے کی وجہ سے مرحومہ بیوی اس جائیداد كی مالك نہىں بنی ، بلکہ مذکورہ جائیداد بدستور والد ہی کی ملکیت میں برقرار ہے، لہذا والد کے انتقال کے بعد اس جائیداد کو بھی مرحوم والد کے دیگر ترکہ کے ساتھ شامل کرکے ان کے ورثاء میں حسب حصص شرعیہ تقسیم کرنا لازم ہوگا۔
کما في التاترخانية: وأما شرائط صحتها فأنواع ،أما في الموهوب فهو أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض و أن يكون الموهوب مقسوما اذا كان ما يحتمل القسمة وأن يكون الموهوب متميزا عن غير الموهوب و لا يكون متصلا ولا مشغولا بغير الموهوب (كتاب الهبة ، ج: ١٤، ص؛ ٤١٢،ناشر ؛ حقانية )
وفي الشامية: وقوله: بخلاف جعلته باسمك) قال في البحر: قيد بقوله: لك؛ لأنه لو قال: جعلته باسمك، لا يكون هبة؛ ولهذا قال في الخلاصة: لو غرس لابنه كرما إن قال: جعلته لابني، يكون هبة، وإن قال: باسم ابني، لا يكون هبة، ولو قال: أغرس باسم ابني، فالأمر متردد، وهو إلى الصحة أقرب اهـ. وفي المتن من الخانية بعد هذا قال: جعلته لابني فلان، يكون هبة؛ لأن الجعل عبارة عن التمليك، وإن قال: أغرس باسم ابني، لا يكون هبة،اه (كتاب الهبة، ج: ٥، ص: ٦٨٩، مط: سعيد)