امامت و جماعت

اپنےگناہوں پر نادم شخص کی امامت کروانا

فتوی نمبر :
10020
| تاریخ :
2010-10-19
عبادات / نماز / امامت و جماعت

اپنےگناہوں پر نادم شخص کی امامت کروانا

میرا سوال یہ ہے کہ میں حافظ قرآن ہوں، کبھی کبھار مجھے نماز پڑھانی ہوتی ہے، لیکن میں نے کچھ ایسے گناہ بھی کیے ہیں، جس کا آپ تصور نہیں کر سکتے، لیکن ان گناہوں کے بعد میں توبہ کر لیتا ہوں،لیکن توبہ کو بھی توڑ دیتا ہوں جب میں اپنے نفس پر قابو نہیں پاتا، لوگ میرے ان گناہوں کے بارے میں نہیں جانتے ،وہ سمجھتے ہیں کہ میں بہت متقی ہوں، تو کیا میں نماز پڑھا سکتا ہوں اگر کوئی اور نہ ہو؟ مجھے کوئی دعا بتا دیجیے جس کے ذریعہ سے میں توبہ پر قائم رہ سکوں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ اگر کوئی شخص صدقِ دل سے اپنے گناہوں پر نادم ہو اور ان سے باز آجائے ، اور توبہ بھی کر لے تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی توبہ قبول کر کے اُسے معاف فرما دیتے ہیں، اس کے بعد اس کی امامت بھی مکروہ نہیں ہوتی، جبکہ اپنی توبہ پر دوام کے لیے متقی و پرہیزگار لوگوں کی صحبت اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ تیسرے کلمہ، درود شریف اور استغفار کی کثرت بھی معمول بنا لیں، ان شاء اللہ مفید ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالیٰ: ﴿وَإِنِّي لَغَفَّارٌ لِمَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدَى﴾ [طه: 82]
وفی مشكاة المصابيح: وعن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «التائب من الذنب كمن لا ذنب له» . رواه ابن ماجه والبيهقي في شعب الإيمان اھ (2/ 730)
وفی مشكاة المصابيح: وعن عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن العبد إذا اعترف ثم تاب تاب الله عليه» (متفق علیه) اھ (2/ 721)
وفی مشكاة المصابيح: وعن ابن عباس رضي الله عنهما عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " قال الله تعالى: من علم أني ذو قدرة على مغفرة الذنوب غفرت له ولا أبالي ما لم تشرك بي شيئا ". رواه في شرح السنة اھ (2/ 723) واللہ أعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 10020کی تصدیق کریں
0     553
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات