امامت و جماعت

مسجد کے قریب ہونے کے باوجود گھر پر جماعت کروانا

فتوی نمبر :
10565
| تاریخ :
2011-01-20
عبادات / نماز / امامت و جماعت

مسجد کے قریب ہونے کے باوجود گھر پر جماعت کروانا

میرے دوست کے ایک ماموں ہیں جو مسجد کے امام وخطیب ہیں اور عالم بھی ہیں، لیکن جب وہ میرے دوست کے گھر پر آتے ہیں تو نماز پڑھنے مسجد نہیں جاتے، بلکہ دوست کے گھر پر ہی جماعت کروالیتے ہیں ،جبکہ قریب کی مسجد بھی اسی مسلک کی ہے ، جس مسلک کے وہ عالم ہیں ، کیا شریعت کی رو سے ایسا کرنا جائز ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگرچہ ماموں موصوف کے مذکور طرزِ عمل سے بھی فریضۂ نماز اور سنتِ جماعت تو ادا ہوجاتی ہے، اور بلا عذرِ شرعی مسجد کی جماعت کا ترک کرنا گناہ ہے ، تاہم ان کے مسجد میں شریکِ جماعت نہ ہونے کی وجہ ، اگر خود ان سے پوچھ کر سوال دوبارہ میل کر دیا جائے تو ان شاء اللہ مکرر غور کر لیا جائےگا۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الدر المختار : (و الجماعة سنة مؤكدة للرجال) قال الزاهدي : أرادوا بالتأكيد الوجوب إلا في جمعة و عيد فشرط . اھ (1/ 552)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 10565کی تصدیق کریں
1     545
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات