ہمارے گاؤں میں تمام مساجد بریلوی حضرات کی ہیں اور دو مساجد مماتیوں کی ہیں، پوچھنا یہ ہے کہ اُن کے پیچھے نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ بریلوی کے مساجد نزدیک ہیں اور مماتیوں کے دور ہیں۔
سائل کو چاہیۓ کہ ان دونوں گروہوں میں سے جونسا امام اپنے عقیدے کا پختہ اور غالی نہ ہو اس کی اقتداء میں نماز پڑھ لیا کرے۔
فی الهدایة : و یکرہ تقدیم العبد (إلی قوله) و الفاسق لأنه لا یهتم لأمر دینه (إلی قوله) و إن تقدموا جاز لقوله علیه السلام صلوا خلف کل بر و فاجر اھ (۱/ ۱۲۲)۔
و فی غنیة المتملی : لو قدموا فاسقا یأثمون بناءً علی أن كراهة تقدیمه کراهة تحریم لعدم اعتنائه بأمور دینه و تساهله فی الإتیان بلوازمه فلا یبعد منه الإخلال ببعض شروط الصلاۃ (إلی قوله) و یکره تقدیم المبتدع أیضاً لأنه فاسق من حیث الإعتقاد و هو أشد من الفسق من حیث العمل اھ (ص: ۵۱۳، ۵۱۴)۔