میں نظر لگ جانے کے بارے میں جاننا چاہتاہوں، کیا یہ سچ ہے کہ غیر جاندار چیزیں مثلاً گاڑی، موٹر سائیکل وغیرہ پر نظر لگ جاتی ہے، اگر لگ جاتی ہے تو نظر دور کرنے کیلیے شرعی طریقہ کیا ہے؟
نظر لگ جانا شریعت کے رو سے ثابت ہے، اس میں جاندار وغیرہ جاندار کا کوئی فرق نہیں، دونوں طرح کی چیزوں کو لگ سکتی ہے اور اس سے بچنے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ معوذتین کو روز مرہ کا معمول بنایا جائے اور بالفرض اگر کسی کو نظر لگ جائے تو اس کو دور کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اول وآخر سات سات مرتبہ درود شریف اور اس کے درمیان سات سات مرتبہ معوّذتین اور سات مرتبہ سورۃ القلم کی آخری تین آیتیں پڑھ کر پانی پر دم کرکے جسے نظر لگی ہو اُسے پلائیں اور اگر وہ چیز غیر جاندار وغیرہ ہو تو اس پر چھڑک دیں۔ تین مرتبہ یہ عمل دُہرانے سے نظر کا اثر ختم ہوجائے گا۔
ففي صحیح مسلم: عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «العين حق، ولو كان شيء سابق القدر سبقته العين، وإذا استغسلتم فاغسلوا» اھ (۲/۲۲۰)۔
وفي مشکاة المصابیح: عن أبي سعيد الخدري قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتعوذ من الجان وعين الإنسان حتى نزلت المعوذتان فلما نزلت أخذ بهما وترك سواهما. رواه الترمذي وابن ماجه وقال الترمذي: هذا حديث حسن غريب اھ (۲/۳۹۰)۔
وفي فتح الباري لابن حجر العسقلاني: فأما عند الإصابة وقبل الاستحكام فقد أرشد الشارع إلى ما يدفعه بقوله في قصة سهل بن حنيف المذكورة كما مضى ألا بركت عليه وفي رواية بن ماجة فليدع بالبركة (ٳلی قوله) من حديث أنس رفعه من رأى شيئا فأعجبه فقال ما شاء الله لا قوة إلا بالله لم يضره اھ (۱۰/۲۵۲) واللہ أعلم بالصواب!