نظر بد

جھگڑے میں گولی چلانے والے کا معلوم نہیں تو قصاص کس پر؟

فتوی نمبر :
58677
| تاریخ :
عقوبات / حدود و سزا / نظر بد

جھگڑے میں گولی چلانے والے کا معلوم نہیں تو قصاص کس پر؟

میری بہن کے لڑکے شاہد محمود کے ساتھ دو دوست آئے تھے، شاہد محمود نے دونوں دوستوں کو بولا کہ تم اِدھر گلی میں بیٹھ جاؤ میں گھر سے پانی لاتا ہوں ایک اور لڑکا عبد اللہ گلی میں پہلے سے بیٹھا ہوا تھا، عبد اللہ نے دونوں سے کہا کہ کیوں تم لوگوں نے مجھے گھور گھور کر دیکھا، ان دونوں نے کہا بھائی آپ نے ہماری طرف دیکھا تو ہم نے بھی آپ کی طرف دیکھا، اتنے میں اُن کی آپس میں تو تو مَیں مَیں ہوگئی، اتنے میں شاہد محمود بھی گھر سے پانی لیکر نکلا تو ان تینوں کو لڑتے ہوئے دیکھا تو شاہد محمود نے عبد اللہ سے پوچھا کیا بات ہے کیوں لڑ رہے ہو، اتنے میں محلے کا ایک اور لڑکا بلال گھر سے نکلا تو اُس نے شاہد محمود کو ایک دو تھپڑ لگائے، کہ تم کیوں دوسرے لڑکوں کو اِدھر لاتے ہو اتنے میں بلال کے گھر سے کچھ خواتین نکلیں اور اُن خواتین نے گالی گلوچ دینا شروع کردیا، بلال کےوالد صاحب واحد گل بھی اسی درمیان کھیت سے آگئے تو اُن خواتین نے شاہد محمود کے بارے میں الٹی سیدھی شیطانی واحد گل کو سنادی، واحد گل اور اس کے ساتھ عبد اللہ کا والد میرے پاس آئے، اسی اثناء میں گاؤں کا ملک صاحب قلم جان بھی راستے میں ملا دونوں نے ملک صاحب سے کہا یاتو آج ہم شاہد محمود کو قتل کردیں گے یا پھر پولیس میں رپورٹ کردیں گے، ملک صاحب نے دونوں کو سمجھایا کہ چھوڑو بچوں کی لڑائی ہے، فیصلہ ہم خود کریں گے، شاہد محمود کے دونوں دوست بھی مل گئے، تو واحد گل نے دونوں کو گالی دینی شروع کی تو اُنہوں نے کہا کہ شاہد محمود آرہا ہے تو ہم اُن سے مل کر چلے جاتے ہیں لیکن واحد گل برابر گالیاں دیتا رہا، اتنے میں ان دونوں میں سے ایک نے پسٹل نکالا، تو میں نے اس کے ہاتھ کو پکڑ لیا اور پسٹل اُس سے لے لیا اور میں نے واحد گل اور عبد اللہ کے والد سے کہا کہ میری بہن کے لڑکے کی غلطی ہے، لیکن اس کے باوجود واحد گل اپنے رشتہ داروں کو ساتھ لیکر تھانہ گئے اور رپورٹ لکھوادی میں نے شاہد محمود کے والد کو فون کیا جو کہ سکھر (یعنی سندھ) میں نوکری کرتا ہے کہ گھر آجائے اور پوری کہانی ان کو سنادی، دوسرے دن شاہد محمود کے والد گاؤں پہنچ گئے تو میں نے اُن سے کہا کہ جاؤ خود اُن سے ملکر فیصلہ کرو، ہمیں درمیان میں نہ پھنساؤ، شاہد محمود کے دونوں دوستوں کے ماموں صاحبان کو شاہد محمود کے والد نے بلاکر کہا کہ جاؤ جو فیصلہ تم لوگ کروگے مجھے قبول ہے اُن دونوں نے دو گاؤں کے ملک صاحبان کو ساتھ لیا اور واحد گل کے گھر گئے واحد گل نے بھی تمام رشتہ داروں کو بلایا اور بات چیت شروع ہوئی، اسی اثنا میں واحد گل کا بیٹا بلال آیا اور والد سے کہا کہ تم لوگ اِدھر فیصلہ کررہے ہو اِدھر شاہد محمود باہر بندوق کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے، حالانکہ یہ بالکل جھوٹ تھا، اُس وقت شاہد محمود بازار میں ہوٹل میں بغیر بندوق کے بیٹھا ہوا تھا، شاہد محمود کے والد کی طرف سے یعنی اُن جرگہ والوں کی کوئی اُن لوگوں نے نہیں سُنی، اس طرح جرگہ والے واپس شاہد محمود کے گھر کی طرف آگئے اور میرے بھائی نیاز (مرحوم) کو کہا کہ جاؤ گھر سے شاہد محمود کے والد کو بلاؤ میرے بھائی نیاز (مرحوم نے شاہد محمود کے والد کو بُلایا، اور پھر میرا بھائی شاہد محمود کے والد اور شاہد محمود کے دوستوں کے دونوں ماموں صاحبان اور دونوں ملک صاحبان کے ساتھ گلی ہی میں بیٹھ گئے، اسی اثناء میں واحد گل دس بارہ (۱۰، ۱۲) آدمیوں کے ساتھ جو کہ سب ہتھیاروں سے لیس تھے، آگیا اورزور زور سے غلیظ ماں و بہن کی گالیاں دینی شروع کی، اس پر میرے بھائی نیاز (مرحوم) نے سب کے سامنے عرض کی کہ گالیاں نہ دو، گھروں میں ساری خواتین سن رہی ہیں اور غلط بات ہے، اس بات پر واحد گل کی طرف سے دلاور خان نے میرے بھائی پر کلاشنکوف تان لی میرے بھائی نیاز (مرحوم) نے اُس کی کلاشنکوف پکڑلی اور منہ آسمان کی طرف کیا کہ دلاور خان نے آسمان کی طرف فائرنگ شروع کی اور پیچھے سے باقی بندوں نے میرے بھائی کے اوپر فائر کھول دیا اور اس طرح میرا بھائی موقع پر ہی دم توڑ گیا ڈاکٹر کے رپورٹ کے مطابق میرے بھائی کو دو گولیاں لگی ہیں، لیکن ابھی صحیح قاتل کا پتہ نہیں چل رہا ہے، کیونکہ سب نے فائرنگ شروع کردی تھی، حالانکہ جس وقت فائرنگ شروع ہوئی اس وقت کچھ اور لوگ بھی وہاں کھڑے تھے، لیکن فائرنگ کے ڈر سے سب بھاگ گئے۔ اب شریعت کی رو سے ہمارے بھائی کا قاتل کون ہے؟ رہنمائی فرمائیں!
نوٹ: واضح ہو کہ مقتول کے جسم پر کتنے نشان تھے اور کس کس نے اُس پر گولی چلائی تھی سائل کو معلوم نہیں مگر یہ ضرور علم ہے کہ ان افراد نے ہی میرے بھائی کو قتل کیا ہے نہ کہ کسی اور نے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں مذکور حملہ آوروں میں سے جب کسی بھی ایک یا بعض افرادکا واقعۃً قاتل ہونا معلوم و متعین نہیں تو اس صورت میں جتنے افراد اس حادثہ کے وقت اسلحہ تانے وہاں موجود تھے اور انہوں نے مقتول پر فائر کیا ہے وہ سب شرعاً قاتل ہیں اور انہیں قصاصاً قتل کرنا لازم ہے۔ ٭

مگر یاد رہے کہ حدود و قصاص کے نفاذ کا اختیار مسلمان حاکم کے علاوہ کسی دوسرے کو نہیں، اس لئے مسلمان حکّام پر لازم ہے کہ واقعہ کی مکمل تحقیق و تفتیش کرکے اصل قاتلوں (خواہ جتنے بھی ہوں ان سب) کو قصاصاً قتل کرواکر حمیّت اسلامیہ کا ساتھ دیں تاکہ معاشرۂ انسانی میں امن و سکون قائم اور بے گناہ و مظلوم عوام کو تحفظ بھی فراہم ہو، نیز قتل و غارت گری جیسے واقعات سے بھی بچا جاسکے۔ ٭

مأخَذُ الفَتوی

٭ وفی بدایۃ المجتہد: وأمّا قتل الجماعۃ بالواحد فانّ جمہور فقہاء الأمصار قالوا تقتل الجماعۃ بالواحد، منہم أبو حنیفۃ والشافعی والثوری وأحمد وابو ثور وغیرہم سواءٌ کثرت الجماعۃ أو قلّت وبہ قال عمر رضی اللہ عنہ حتّی روی أنّہ قال لو تمالأ علیہ أہلُ صنعاء لقتلتہم جمیعًا (إلٰی أن قال) فعمدۃ من قتل بالواحد الجماعۃ ألنظر إلی المصلحۃ۔ (ج۲، ص۲۹۹)
وفی الدّر المختار: (ویقتل جمع بمفرد ان جرح کل واحد جرحًا مُہلکًا) لانّ زہوق الروح یتحقّق بالمشارکۃ لانّہ غیر متجزّیٔ بخلاف الأطراف کما سیجیٔ۔ (والّا لا) کما فی تصحیح العلامۃ قاسم۔ وفی المجتبٰی: إنّما یقتلون اذا وجد من کل جرحٌ یصلح لزهوق الرّوح، فامّا اذا كانوا نظّارۃ او مُغرّین أو مُعِینین بامساك واحد فلا قود علیهم۔ اهـ (ج۶، ص۵۵۷)۔
وفی اوجز المسالك: قال محمد بعد اثر الباب وبهٰذا نأخذ انّ قتل سبعۃ أو اكثر من ذٰلك رجلًا عمدًا قتل غیلۃ أو غیر غیلۃ ضربوه بأسیافهم حتی قتلوه قتلوبه كلّهم وهو قول أبی حنیفۃ والعامّۃ من فقهائنا۔ انتهٰی۔ (ج۱۳، ص۱۶۳)۔
وفی الفقه الإسلامی: ثانیًا القتل المباشر حالۃ الاجتماع كان تحدث جراحات معًا من عدۃ جناۃ فیجرح كلٌّ منهم جرحًا مهلكًا (الٰی قوله) فیصیب المجنی علیه اصابۃ قاتلۃ فیجب القصاص عند الحنفیّۃ علی كل المشتركین إذا باشروا القتل بأن كل واحد منهم یعدّ قاتلا عمدًا وبهٰذا یظهر أنّ الحنفیّۃ لا یفرّقون بین حالۃ التوافق (وهو قصد القتل دون اتفاق سابق) وبین التّمالؤ (وهو فی اصطلاح المالكیۃ قصد القتل بعد اتفاق سابق علٰی ارتكاب الجریمۃِ) وانّما المهمّ حدوث الإصابۃ فعلًا وأن یكون فعل الجانی قاتلًا بدلیل قولهم فی القتل العمد وتشترك المباشرۃ من الكلّ بان جرح كل واحد جرحًا ساریًا الٰی قوله ای أن المهمّ عندهم هو حدوث مباشرۃ القتل۔ وقال الجمهور (المالكیۃ والشافعیۃ والحنابلۃ): تقتل الجماعۃ الغیر المتمالئین (ای غیر المتّفقین سابقًا) بالواحد اذا كان فعل كل واحد منهم صالحًا للقتل به فیما لو انفرد بالجنایۃ ومات المجنی علیه وضربوه عمدًا عدوانًا ای لا بدّ من كون فعل كل واحد من الجماعۃ قاتلا وفی هٰذه الحالۃ یتفق الجمهور مع الحنفیّۃ وكذلك یقتل عند الجمهور الجماعۃ المتمالئون (المتواطئون) علی القتل بالواحد ان قصد الجمیع الضرب وان لم یصلح فعل كل واحد من الجماعۃ للقتل ای ولو لم یكن فعل كل واحد قاتلًا (إلٰی قوله) وهٰذا هو الأصحّ۔ (ج۶، ص۲۳۶)۔
وفی الفقه علی المذاهب الأربع: فلو لم یقتل الجماعۃ بالواحد لتذرع الناس الی القتل بأن یتعمدّوا قتل الواحد بالجماعۃ سواء باشروا جمیعًا القتل أو باشره واحد منهم۔ (ج۵، ص۲۶۱)۔

٭ وفی الھندیۃ: ورکنہ إقامۃ الإمام أو نائبہ فی الاقامۃ ........... وحکمہ الاصلیّ الانزجار عمّا یتضرر بہ العباد وصیانۃ دار الاسلام عن الفساد۔ (ج۲، ص۱۴۳) واللہ اعلم بالصواب والیہ المرجع والمآب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد آصف نواب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 58677کی تصدیق کریں
0     1418
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • نظر اتارنے کا ایک مجرب و مستند وظیفہ

    یونیکوڈ   اسکین   نظر بد 6
  • نظر اُتارنے کا صحیح طریقہ

    یونیکوڈ   نظر بد 1
  • جھگڑے میں گولی چلانے والے کا معلوم نہیں تو قصاص کس پر؟

    یونیکوڈ   نظر بد 0
  • غیر جاندار چیز کو نظرِ بد لگنا اور اس کے دور کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   نظر بد 0
  • عملیات کے ذریعہ قتل کا حکم

    یونیکوڈ   نظر بد 0
  • لال مرچوں پر دم کرکے نظرِ بد اتارنا

    یونیکوڈ   نظر بد 1
  • گھر یا مکان کو نظرِ بد سے بچانے کیلئےسینگ، ہڈی اور تعویذ لٹکانا جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   نظر بد 0
Related Topics متعلقه موضوعات