اگر دل میں بیوی کو طلاق دی جائے تو کیا ہوجاتی ہے ؟جبکہ غالب یقین ہو کہ زبان سے نہیں کہا ۔
وقوع طلاق کا تعلق الفاظ طلاق کے زبان سے بولنے یا ہوش و حواس میں لکھنے سے ہے ،اس لئے محض دل دل میں تصور اور خیالات آجانے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی ،تاہم لگتا ہے کہ سائل وسوسہ کا مریض ہے ،ایسی صورت حال میں اسے بکثرت تیسرے کلمہ کا ورد کرنا چاہیئے۔
کمافی حاشیة الطحطاوی:فالسماع شرط فیما یتعلق بالنطق باللسان(الی قوله)لو اجری الطلاق علی قلبه وحرک لسانه من تلفظ یسمع لایقع وان صح الحروف اھ (119)۔واللہ اعلم بالصواب