کیا کوئی شخص قرآن پڑھ کر اس کا ثواب/برکات، دعائے خیر کے ساتھ کسی دوسرے شخص کو جو زندہ ہو، ایصال (پہنچا) سکتا ہے، غلطی کے ہرجانہ کے طور پر؟ جبکہ ذاتی طور پر معافی مانگنا ممکن نہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ کئی سال پہلے کالج کا طالبعلم ہوتے ہوئے میں ایک کالا جادو کرنے والے کے پاس ایک لڑکی کی خاطر تعویذ لینے گیا، (میں نے اسے کبھی بھی دیا نہیں) میں نے اسے ایک سال تک کیا، پھر چھوڑ دیا اور توبہ کرنے لگا، جب میں نے یہ جان لیا کہ جو میں کر رہا تھا وہ حرام تھا، اب میں کئی سالوں سے توبہ کر رہا ہوں، میں پانچ وقت باجماعت نماز پڑھتا ہوں، کبھی نماز نہیں چھوڑتا، میں قرآن پڑھتا ہوں، ذکر کرتا ہوں، ہر ہفتے ذکر کی مجلس میں شرکت کرتا ہو، لیکن میں سوچتا ہوں کہ میں اپنے گناہ کے بدلے میں شادی کا پیغام(رشتہ) حاصل کرنےقابل نہیں رہا، دس، پندرہ دفعہ اچانک میرا رشتہ ٹوٹ چکا ہے،برائے مہربانی مشورہ دیجیے۔ جزاک اللہ خیراً!
جی ہاں! کسی شخص کی زندگی میں اس کیلئے مغفرت کی دعا کرنا، اس کے لیے قرآن کریم پڑھ کر ایصالِ ثواب کرناجائز ہے۔
جبکہ سائل کو چاہیے کہ پنجگانہ فرائض کا اہتمام اور منکرات سے اجتناب کرے اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی شادی کیلئے چالیس روز تک”یَا بَدِیْعَ الْعَجَائِبِ بِالْخَيْرِ یَابَدِيْعُ“ باره سو(۱۲۰۰)مر تبہ روزانہ پڑھ کر دعا کرے،اور سورۂ طٰہٰ (پارہ ۱۶) اس کو لکھ کر ریشم کے سبز کپڑے میں لپیٹ کر پاس رکھے، ان شاء اللہ مفید ہوگا۔
كما في رد المحتار: وفي البحر: من صام أو صلى أو تصدق وجعل ثوابه لغيره من الأموات والأحياء جاز، ويصل ثوابها إليهم عند أهل السنة والجماعة كذا في البدائع، ثم قال:وبهذا علم أنه لا فرق بين أن يكون المجعول له ميتا أو حيا اھ (2/ 243)