محترم مفتی صاحب! السلام علیکم!
کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک مسجد کی خالی زمین جس پر مدرسہ بنانے کی بھی اشد ضرورت ہے، لیکن محلے کے کچھ لوگ اس پر سکول کی بلڈنگ تعمیر کرانے کی کوشش کرتے ہیں ، یہ واضح رہے کہ جگہ بھی کافی چھوٹی ہے ، جس پر صرف دو کمروں کی تعمیر ہو سکتی ہے ،اگر سکول بنتا ہے تو مسجد کے لیے لیٹرین اور وضو خانہ کی جگہ بھی نہیں رہتی؟ براہِ کرم قرآن وسنت کی روشنی میں وضاحت فرما کر ممنون فرمائیں!
مسجد کے لیے وقف جگہ پر سکول بنانا جائز نہیں، بلکہ وضو خانہ وغیرہ بنایا جائے ، اور اگر یہ جگہ مسجد پر وقف نہ ہو ،تو اس کی مکمل تفصیل لکھ کر دوبارہ حکمِ شرعی معلوم کیا جا سکتا ہے۔
ففی حاشية ابن عابدين: شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة ووجوب العمل به اھ(4/ 433)واللہ اعلم
مساجد میں درسِ قرآن اور فضائلِ اعمال کی تعلیم کے سلسلے میں اختلافات پر شرعی رہنمائی
یونیکوڈ حقوق مسجد 2عارضی مسجد (جائے نماز) کو شہید کرکے وہاں نئی مسجد کی آمدن کے لئے دکانیں بنانا جائز ہے؟
یونیکوڈ حقوق مسجد 3ضرورتمندوں کو اپنی ضروریات کیلئے اور مدرسہ والوں کا طلباء کے لئے مسجد میں چندہ مانگنا
یونیکوڈ حقوق مسجد 0