ہماری مسجد کی زمین ایک آدمی نے وقف کی تھی اور اس کے گرد چار دیواری بھی کرائی،اس مکمل زمین پر مسجد نہیں بنائی،بلکہ اس کے کچھ حصے پر بنائی اور کچھ حصہ بچا لیا اور کہا کہ یہ جگہ پڑی رہے،اگر کبھی مسجد کو بڑا کرنا پڑے تو اس کے ساتھ ملا دینا یا تم چاہو تو اس جگہ مدرسہ بنا دینا،اس پوری بات کے گواہ ابھی تک موجود ہیں،لیکن اس آدمی نے کاغذی کاروائی نہیں کی تھی،اس لئے سرکار کے گھر میں وہ اس کے نام پر باقی تھی ،اب اس کی موت کے بعد اس کے بیٹوں نے وہ بچی ہوئی جگہ کسی پر بیچ دی،اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا شرعاً یہ بیع صحیح ہوئی یا نہیں ہوئی؟ اور خریدنے والا آدمی اس کا مالک بنا یا نہیں؟
سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو، اس طور پر کہ مذکور شخص نے مسجد کیلئے باقاعدہ زمین وقف کی تھی،جس کا ایک حصہ باقاعدہ نماز کے لئے مختص کیا گیا تھا اور بقیہ زمین مسجد کی ضروریات اور مصالح کیلئے چھوڑی گئی تھی تو اگرچہ سرکاری کاغذات میں یہ زمین مذکور شخص کے نام تھی،تب بھی شرعاً یہ زمین وقف ہوکر مذکور شخص کی ملکیت سے نکل چکی تھی، لہذا اب مذکور شخص کی وفات کے بعد ان کے بیٹوں کا مسجد کے لئے وقف کی گئی جگہ کو فروخت کرنا درست نہیں اور جو بیع ہوچکی،وہ بھی باطل ہے اور خریدنے والا اس کا مالک شمار نہ ہوگا،بلکہ واقف کے بیٹوں پر لازم ہے کہ وہ وقف کی زمین کی بیع کو ختم کرکے دوبارہ اس زمین کو وقف کی حیثیت پر برقرار رکھیں۔
کمافی الدر المختار:(فإذا تم ولزم لا يملك ولا يملك ولا يعار ولا يرهن) الخ
وفی الشامیة: تحت(قوله: لا يملك) أي لا يكون مملوكا لصاحبه ولا يملك أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه لاستحالة تمليك الخارج عن ملكه، ولا يعار، ولا يرهن لاقتضائهما الملك درر اھ(4/351)۔
وفی الھدایة: اذا صح الوقف لم یجز بیعه ولاتملیکه،اما امتناع التملیك فلما بینا من قوله علیه السلام:تصدق باصلھا،لایباع ولایورث ولایوھب اھ(2/640 ادارۃ المعارف)
مساجد میں درسِ قرآن اور فضائلِ اعمال کی تعلیم کے سلسلے میں اختلافات پر شرعی رہنمائی
یونیکوڈ حقوق مسجد 2عارضی مسجد (جائے نماز) کو شہید کرکے وہاں نئی مسجد کی آمدن کے لئے دکانیں بنانا جائز ہے؟
یونیکوڈ حقوق مسجد 3ضرورتمندوں کو اپنی ضروریات کیلئے اور مدرسہ والوں کا طلباء کے لئے مسجد میں چندہ مانگنا
یونیکوڈ حقوق مسجد 0