کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ پرانی عیدگاہ کو مسجد بنانا جائز ہے یا نہیں؟ جبکہ آبادی کے اندر آگئی ہے،عیدگاہ کے واقف اور متولی ابھی زندہ نہیں ہیں اور لوگ اس میں جگہ کی کمی کی وجہ سے نمازِ عید نہیں پڑھتے ہیں، بلکہ آبادی سے باہر جا کر پڑھتے ہیں، جواب سے ممنون فرمائیں۔
مذکورہ عیدگاہ اگر واقعۃً آبادی میں آگئی ہو تب بھی نمازِ عید کی ادائیگی اس میں جائز اور درست ہے، تاہم اگر اسے باضابطہ مسجدِ محلہ میں تبدیل کر کے وہاں تعمیرِ مسجد کی جائے تو یہ بھی بلاشبہ جائز اور درست ہے اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں۔
فی حاشية ابن عابدين: سئل أبو القاسم عن أهل مسجد أراد بعضهم أن يجعلوا المسجد رحبة والرحبة مسجدا أو يتخذوا له بابا أو يحولوا بابه عن موضعه، وأبى البعض ذلك قال إذا اجتمع أكثرهم وأفضلهم ليس للأقل منعه. اهـ(4/ 378)۔
وفي الفتاوى الهندية: في الكبرى مسجدا أراد أهله أن يجعلوا الرحبة مسجدا والمسجد رحبة وأرادوا أن يحدثوا له بابا وأرادوا أن يحولوا الباب عن موضعه فلهم ذلك فإن اختلفوا نظر أيهم أكثر وأفضل فلهم ذلك كذا في المضمرات اھ(2/ 456)۔
مساجد میں درسِ قرآن اور فضائلِ اعمال کی تعلیم کے سلسلے میں اختلافات پر شرعی رہنمائی
یونیکوڈ حقوق مسجد 2عارضی مسجد (جائے نماز) کو شہید کرکے وہاں نئی مسجد کی آمدن کے لئے دکانیں بنانا جائز ہے؟
یونیکوڈ حقوق مسجد 3ضرورتمندوں کو اپنی ضروریات کیلئے اور مدرسہ والوں کا طلباء کے لئے مسجد میں چندہ مانگنا
یونیکوڈ حقوق مسجد 0