کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے گاؤں میں ایک صاحب نے مسجد کے صحن کی تو سیع کے لۓ کچھ زمین خرید کر مسجد کے صحن میں شامل کردی، اس کے بعد تقریباً ۲۰ یا ۲۲ سال تک وہ زمین کا حصّہ مسجد کے ساتھ منسلک رہا اور نمازیں اس پر پڑھی جاتی رہی، اس کے بعد گاؤں کے لوگوں نے زمین کے اس حصے کو جو مسجد کے توسیع کے لۓ خریدا گیا تھا، استنجاء خانہ اور وضو خانہ بنا دیا، جبکہ اس مسجد کا اپنا پرانا استنجاء خانہ اور وضو خانہ بھی موجود ہے، اس کے بعد ان لوگوں کا آپس میں اختلاف ہوا اور بعضوں نے کہا کہ اس نئے استنجاء خانہ اور وضو خانے میں استنجاء کرنا اور وضو کرنا جائز نہیں ،کیونکہ وہ زمین کا حصہ مسجد میں شامل ہے، جبکہ بعضوں کا کہنا یہ ہے کہ درست ہے، اس لۓ آپ صاحبان سے دریافت یہ کرنا ہے شرعاً اس مسئلہ کا کیا حکم ہے؟ قرآن وحدیث یا فقہ کی روشنی میں جواب عنایت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔
جب مذ کور حصّہ باضابطہ مسجدِ شرعی میں داخل ہوچکا ہے تو اب اُسے دیگر ضروریات میں استعمال کرنا شرعاً جائز نہیں ، لہٰذا متعلقین و انتظامیہ مسجد پر لازم ہے کہ مذکورحصہ کو دوبارہ مسجد میں لوٹائیں اور وضو خانہ وغیرہ کے لۓ کسی دوسری جگہ کا انتخاب کریں۔
في الدر المختار: أما لو تمت المسجدية ثم أراد البناء منع ولو قال عنيت ذلك لم يصدق تتارخانية اھ (4/ 358)۔
وفی الخانیة: ولو أن قيم المسجد أراد أن یبنی حوانیت فی حریم المسجد وفناءه قال الفقیه ابو اللیث رحمه اللہ لا یجوز له أن یجعل شیئا من المسجد مسکنا أو مستغلا اھ (۳/۳۹۳)۔
مساجد میں درسِ قرآن اور فضائلِ اعمال کی تعلیم کے سلسلے میں اختلافات پر شرعی رہنمائی
یونیکوڈ حقوق مسجد 2عارضی مسجد (جائے نماز) کو شہید کرکے وہاں نئی مسجد کی آمدن کے لئے دکانیں بنانا جائز ہے؟
یونیکوڈ حقوق مسجد 3ضرورتمندوں کو اپنی ضروریات کیلئے اور مدرسہ والوں کا طلباء کے لئے مسجد میں چندہ مانگنا
یونیکوڈ حقوق مسجد 0