جناب مفتی صاحب ایک اُلجھن میں ہوں حل چاہتا ہوں ، میرے لئے شرعی کیا حکم ہے میں کہیں گناہگار تو نہیں ہوں؟
میں ۱۹۷۶ء میں پاپوش نگر میں آیا ، محلہ میں رحمانی مسجدکے نام سے ایک چھوٹی سی مسجد تھی ، ارد گرد دوکانیں تھیں، علماء اور بزرگوں سے تعلق کے باعث جی چاہا کہ اس میں وسعت ہوجائے ، یہاں کے معززین کی کمیٹی تھی ، ان سب کے بزرگ اور معزز جناب صغیر احمد صدیقی اور حافظ عتیق احمد صاحب کے تعاون سے یہ دوکانیں مسجد کے نام کرائیں ، مسجد وسیع ہوگئی ، مدرسہ نام کا تھا ، مرحوم خطیب صاحب اس کے انچارج تھے انہوں نے اپنی نیکی اور حسنِ ظن سے ،وہ میرے نام لکھ کردے دیا ، ان کی معذوری تھی ، نائب امام و خطابت کے فن میں کماحقہٗ مہارت نہ رکھتے تھے ، تبدیلی کی بات پر ، بعض حضرات نے ان کی طرف داری میں مستقل ایک گروہ بنالیا ، بہرحال امام اور خطیب نئے لائے گئے اور وہ جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے استاد تھے ، مسجد اور مدرسہ بنوری ٹاؤن کے حوالہ کردیا گیا ، نیو ٹاؤن کے اکابر نے فرمایا کہ بعد نمازِ عشاء درسِ قرآن ہو ، کیونکہ کچھ لوگ درس کے نام سے مسجد کو سیاست کا مرکز بنانا چاہتے تھے ، تعمیل کرنے پر فضائل اعمال کی تعلیم متاثر ہوئی ، دوسرے گروہ نے یہاں تبلیغ کا نام استعمال کرنے کی کوشش کی ، مگر تبلیغی حضرات اور مکی مسجد کے بزرگوں کی مداخلت پر خصوصاً بھائی امین صاحب کے یہ کہنے سے کہ ہمارا ایک کام اور شروع ہوگیا ، بتاؤ تم اپنا کام کب کروگے؟ معاملہ ختم ہوگیا اور تعلیم عشاء کے بجائے ظہر میں ہونے لگی اور نو سال تک یہ سلسلہ چلتا رہا ، نئے امام اور خطیب نے سب حضرات کو جوڑ لیا ، اور وہ تمام حضرات جو مسجد پر نظریں جمائے ہوئے تھے دم توڑ گئے ، جب کہ اس سے قبل ایک مرحلہ پر ایسا بھی ہوا کہ مسجد کمیٹی نے دوسرے سیاسی پروگراموں کو روکنے کیلئے فضائلِ اعمال کی تعلیم پر بھی پابندی عائد کردی اور تبلیغی حضرات نے مسجد سے باہر کام شروع کردیا ، مگر جب مجھے پتہ چلا تو میں نے کمیٹی سے کہا کہ ہم تبلیغ کی تعلیم بند کرکے اللہ کے غضب کو دعوت نہیں دے سکتے اور تعلیم دوبارہ مسجد میں شروع ہوگئی ، اب مسجد سے متصل بنوری ٹاؤن کی ایک معیاری شاخ قائم ہوگئی ہے ، جس میں سردست درجہ خامسہ یعنی ہدایہ تک کتابوں کی تعلیم ہوتی ہے ، ہماری بدقسمتی کہ مسجد کے امام و خطیب اور مدرسہ کے نگران نے بعض ذاتی وجوہ کی بناء پر مسجد و مدرسہ سے استعفیٰ دے دیا ، نئے امام صاحب کے آنے سے قبل اربابِ تبلیغ نے عشاء کے بعد دوبارہ اپنی تعلیم شروع کردی ، نئے امام صاحب کے آنے پر ان حضرات سے عرض کیا گیا کہ سابقہ امام صاحب کے درسِ قرآن ختم ہونے میں صرف چار پانچ پارے باقی ہیں ، پہلے ان کو ختم ہونا چاہئے بعد میں انشاء اللہ اس وقت تعلیم شروع کرادیں گے۔
اللہ جزائے خیر دے ان حضرات کو ، انہوں نے بات مان لی، درس کے اختتام پر جامعہ علوم اسلامیہ کے مہتمم جناب ڈاکٹر محمد حبیب اللہ مختار صاحب اور مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب تشریف لائے ، امام صاحب نے پارہ عم کی سورۃ الناس پر درس ختم کردیا ،تو ان حضرات نے امام صاحب سے سورۃ فاتحہ کا ترجمہ کراکے دوسرے درس کی ابتداء کردی ، اور معمول کا درس پھر شروع ہوگیا ، تو پندرہ دن بعد تبلیغی حضرات میرے پاس آئے اور وعدہ یاد دلایا ، میں نے کہا کہ اب تو بزرگوں نے درس شروع کرادیا ، اس پر ان حضرات کو غصہ آگیا اور آنا بھی چاہئے تھا ، انہوں نے مجھے برا بھلا بھی کہا حتیٰ کہ بعض حضرات نے منافق تک کہ ا، ان میں سے چند حضرات کا درس میں نہ بیٹھنا تو خیر معمول تھا ہی ، اب عین درس کے وقت محراب کی سیدھ میں وضو خانہ پر بیٹھنا شروع کردیا ، ظاہر ہے اس سے غیر تبلیغی حضرات کو اعتراض کا موقع ملتا تھا ، پیار و محبت سے سمجھایا ، ایک دن سابقہ بے تکلفی اور بڑے ہونے اور دینی نسبت سے کچھ سختی سے کہا کہ آپ کل سے یہاں نہیں بیٹھیں گے ، کچھ حضرات کو میرا یہ طرزِ عمل برا لگا ، کچھ نے ان کی اور کچھ نے میری تائید کی ، میں نے یہ بھی کہا کہ اگر کل سے یہاں بیٹھیں گے تو میں اس کا بندوبست کرلوں گا ، یہ محض زبانی بات تھی ، آئی گئی ہوگئی ، مگر میرے ڈرائیور کی حماقت کہ وہ دوسرے دن کچھ دوسرے لڑکوں کو پیش بندی کے طور پر ساتھ لایا ، اور حماقت سے تبلیغی حضرات میں سے دو نوجوانوں سے بدتمیزی کی اور جھگڑا ہوگیا ، اس جھگڑے سے قبل مسجد میں ان لڑکوں سے میری ملاقات ہوئی تھی مگر اس ناخوشگواری کا کوئی امکان میرے ذہن میں نہ تھا ، میں نے حسبِ عادت ان لڑکوں کو جو تبلیغ سے منسلک بھی ہیں اور باشرع بھی ہیں ،اکراماً آئس کریم کی صلح ڈالی اور مسجد کے گیٹ پر کھڑے آئس کریم والے کو ،ان کو آئس کریم کھلانے کا کہہ کر گھر آگیا ، بعد میں یہ ناخوشگوار واقعہ رونما ہوا ، مجھے بتلایا گیا میں واپس آگیا ،معاملہ ختم کرایا، مگر اہلِ محلہ کے وہ حضرات جو مسجد و مدرسہ میں مداخلت کی اجازت نہ ملنے پر ،مجھ سے خفا تھے انہوں نے ایک ہجوم تیار کیا ، میرے گھر پر ہلہ بول دیا ، گالیاں دیں ، دوبار میری بے اکرامی کی ، دو دفعہ میری قمیص پھاڑی ، مجبوراً پولیس بلائی گئی مگر کاروائی سے قبل واپس کردی گئی ، مرحوم الحاج صغیر احمد صدیقی کے بڑے صاحبزادے کو بلایا ،میرے گھر میں بیٹھ کر معاملہ طے ہونے لگا ، اللہ جزائے خیردے تبلیغ والوں کو ،انہوں نے کوئی غلط قدم نہیں اُٹھایا ، تاہم ان شرارتیوں نے تبلیغ والوں کی آڑ لے کر ،میری پھر بے اکرامی کی ، جب تبلیغ والوں سے اس قضیہ کا حل پوچھا گیا تو انہوں نے درسِ قرآن کی بندش اور عشاء کے بعد تبلیغ کی تعلیم کے دوبارہ آغاز کو اس کا حل قرار دیا ، حالانکہ تین بار تبلیغی اکابر نے فضائلِ اعمال کی تعلیم کو ،ظہر میں کرنے کا حکم فرمایا اور درس کو عشاء میں برقرار رکھنے کا حکم دیا ،مگر انہوں نے بزرگوں کی رائے کے خلاف یہ رائے دے کر گویا اب درسِ قرآن و تبلیغ کو ایک دوسرے کے مقابلہ میں کھڑا کردیا گیا اور فیصلہ ان لوگوں کے ہاتھ میں تھا ، جو بہرحال مسلمان ہیں اور بس ،اس پر جناب صغیر احمد صدیقی مرحوم کے بڑے صاحبزادے نے درسِ قرآن کو موقوف کرنے اور تبلیغی تعلیم شروع کرنے کا فیصلہ کردیا ، ۱۲ سال قبل ہم جس سفر پر روانہ ہوئے تھے آج پھر لوٹ کر اس کے نقطہ آغاز پر واپس آگئے ، اور اہلِ دین کی اس لڑائی میں جس کی بنیاد درسِ قرآن اور فضائلِ اعمال کی تعلیم ہے، ہمارا اور اہلِ تبلیغ کا کیا طرز عمل ہونا چاہئے جب کہ اکابرِ تبلیغ محاذ آرائی سے منع فرماتے ہیں ، آپ از روئے شریعت اس معاملہ میں ہماری رہنمائی فرمادیں ، لادین طبقہ خوش ہے کہ درس بند ہوگیا ، دوسری پارٹی خوش ہے کہ آپس میں سرپھٹول ہورہے ہیں ، بریلوی اور شیعہ خوش ہیں کہ ان کو اپنی پڑی اور ہماری جان چھوٹ گئی ، ڈاکٹر اسرار اور ان کے ہم نوا کہتے ہیں کہ یہ قرآن مخالف تحریک ہے ، کیا ان کا یہ کہنا سچ نہیں ہوجائے گا ؟ دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا اہلِ تبلیغ کا یہ عمل اعراض عن قرآن کے زمرے میں تو نہیں آئے گا ؟ کیونکہ بظاہر فضائلِ اعمال کی تعلیم کو درسِ قرآن پر ترجیح دی گئی ہے ، کیا اس طرزِ عمل کے باوجود یہ لوگ تبلیغی کہلائیں گے ؟ خدانخواستہ ہم پر کوئی وبال تو نہیں آئے گا ؟ اس کا حل اور تدارک کیا ہے؟
نیز ۸ ستمبر کو الحاج صغیر احمد صدیقی مرحوم کے بڑے صاحبزادے اختر صاحب سے گفتگو ہوئی ، اور سارا معاملہ مفصل طور پر ان کے سامنے بیان کیا گیا ، اختر صاحب نہایت نیک دل اور خوفِ خدا کے مالک ہیں ،انہوں نے نہایت توجہ سے بات کو سنا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خوفِ خدا سے مغلوب ہوکر وہ یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ میں قرآن کا مقابلہ نہیں کرتا ، اور قسم کھاکر کہا کہ میں آئندہ آپ کے معاملہ میں مداخلت نہیں کروںگا ، اور دوسرے تبلیغی حضرات جب آئیں گے تو میں ان سے بھی معذرت کروں گا ، لیکن میں نے سوچا کہ جن کے ذریعہ درس موقوف ہوا ، انہیں کہ ذریعہ دوبارہ شروع ہونا چاہئے ، چنانچہ جب ان پر زور دیا تو اسی وقت انہوں نے امیر صاحب تبلیغی جماعت سے ٹیلی فون پر بات کی اور درس قرآن شروع کرنے کا مطالبہ کیا ، جو کام ان کے والد مرحوم کے زمانے سے شروع ہوا ، الحمدللہ دوبارہ انہی کے بیٹے کے ہاتھوں اس کی ابتدا ہورہی ہے ، اللہ تعالیٰ انہیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
مگر ۱۲ ستمبر سے ان کا کہنا ہے کہ اگر تم مولانا محمد اسماعیل ، مولانا عبدالہادی اور مولانا مفتی محمد نعیم صاحب جامعہ بنوریہ والے، تین علماء فیصلہ کردیں کہ فضائلِ اعمال کی جگہ درس قرآن ہونا چاہئے ، تو میں درس ہونے دوں گا ، کیا موصوف کو اپنے باپ کی وقف کردہ مسجد اور مدرسہ میں انتظامی مداخلت کی شرعاً اجازت ہے ؟ جب کہ ان کے والد صاحب اپنی نگرانی میں درسِ قرآن شروع کراگئے تھے اور مسجد و مدرسہ اس وقت سے جامعہ علوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کی شاخ ہے ، کیا مسجد و مدرسہ سے غیر متعلق حضرات کو ،جامعہ علوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کی اجازت و حکم کے بغیر ایسے دینی امور میں اپنی ذاتی، خاندانی وجاہت اور اہلِ محلہ کی حمایت میں ایسے اقدامات کی شرعاً و اخلاقاً اجازت ہے؟ نیز اس بارے میں علماء کرام کو کیا لائحہ عمل اختیار کرنا چاہئے؟
(تبلیغِ دین کے مختلف شعبے ہیں نہ کہ صرف مروّجہ تبلیغ )
حاجی محمد مسکین ساکن 15/A پاپوش نگر ناظم آباد کراچی نے ایک استفتاء دارالافتاء جامعہ احتشامیہ میں داخل کیا تھا ،جس کا جواب ہم نے یہ دیا کہ دعوت و تبلیغ اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ جناب نبی کریم ﷺ کے مبارک زمانہ سے امت کی ذمہ داری میں شامل ہے ، قرآن و حدیث کی کئی نصوص اس فریضہ کی اہمیت و ضرورت اور افضلیت پر وارد ہوئی ہیں ، تقریباً ہر دور میں امتِ محمدیہ ’’علی صاحبہا الصلوٰۃ و السلام‘‘ عوام الناس کے حالات کے مناسب ، مختلف طریقوں سے اس فریضہ کی بجاآوری کرتی رہی ، آج کے دور میں اس اہم فریضہ کی ادئیگی کیلئے حضرات اکابر علماء کرام ’’رحمۃ اللہ علیہم‘‘ نے مختلف طریقوں کو اختیار کیا ہوا ہے ، جن میں سے ایک طریق کار وہ ہے جو تبلیغی جماعت کے تبلیغی کام کے نام سے معروف ہے ، اور بحیثیت مجموعی اس سے امت کو بہت فائدہ پہنچا ہے اور الحمدللہ پہنچ رہا ہے ، اس جماعت سے منسلک بعض ناسمجھ لوگ جو قرآن و سنت کا صحیح علم اور تبلیغِ دین کے طریق کار کے متعلق صحیح واقفیت نہیں رکھتے ، ان کی بعض کوتاہیوں اور نا مناسب حرکتوں کی وجہ سے مسلمانوں کو عموماً اور تبلیغی جماعت کو خصوصاً ناقابل تلافی نقصان بھی ہورہا ہے ، چنانچہ مذکورہ صورت میں جن لوگوں کا اصرار ہے کہ بعد نمازِ عشاء صرف فضائلِ اعمال کی تعلیم ہونی چاہئے ، درسِ قرآن بند ہونا چاہئے ، یہ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ، ان کے طرزِ عمل سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ تعلیم کا مروجہ طریقہ جو تبلیغی جماعت نے اپنایا ہوا ہے ، صرف اسی ایک طریقہ میں تبلیغِ دین کو منحصر سمجھتے ہیں، اور دین کے دیگرشعبوں کو دعوت و تبلیغ کے طریقے نہیں سمجھتے ، بنیادی طور پر یہ ان کی سنگین غلطی ہے ، کیونکہ تبلیغِ دین صرف اس ایک طریقہ میں منحصر نہیں ، بلکہ اس کے علاوہ تعلیم و تدریس ، تصنیف و تالیف ، جہاد و سیاست ، افتاء و اصلاحِ باطن اور مساجد میں درسِ قرآن وغیرہ ، یہ سب خدمتِ دین کے مختلف طریقے ہیں ، بمقتضائے حالات جس طریقہ سے عوام کو زیادہ فائدہ ہو ، اسے اختیار کرکے اخلاص کے ساتھ دین کی خدمت کی جاسکتی ہے۔
فضائلِ اعمال ایک عام فہم زبان میں فضائل کی کتاب ہے ، جس سے لوگوں کی توجہ عمل کی طرف مبذول کرائی جاتی ہے اور امت کو اس کتاب سے بہت فائدہ پہنچا ہے ، اس کی تعلیم یقیناً دنیا وآخرت میں خیر و برکت کا باعث ہے ، لیکن قرآن مجید وہ سب سے مقدس اور سب سے عظیم کتاب ہے جس کی عظمت ورفعت اور پڑھنے پڑھانے کا ثواب محتاجِ بیان نہیں ، تمام علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ کوئی ذکر تلاوتِ کلام مجید سے زیادہ ثواب نہیں رکھتا ، حدیثِ پاک میں ارشاد ہے ’’وفضل کلام اﷲ تعالیٰ علی سائر الکلام کفضل اﷲ علی خلقہٖ‘‘ (مشکوٰۃ) یعنی تمام کلاموں کے مقابلہ میں کلام اللہ کو وہی عظمت و بزرگی حاصل ہے جو اللہ رب العزت کو اس کی تمام مخلوقات پر بزرگی و برتری حاصل ہے ، لہٰذا قرآنِ کریم میں مشغول رہنے والوں کو دوسری چیزوں میں مشغول رہنے والوں پر بھی اسی طرح برتری و بزرگی حاصل ہوتی ہے۔
اب دونوں کتابوں کے فضائل کا جائزہ لینے کے بعد ، واضح رہے کہ فضائلِ اعمال کی تعلیم ہو یا درسِ قرآن دونوں سے مقصد ، دین کی دعوت و تبلیغ ہے اور یہ دونوں تبلیغ کے دو شعبے ہیں ، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم و تعلم سے وابستہ لوگوں کو خود رسول اللہ ﷺ نے سب سے بہتر قرار دیا ہے ، اس لئے ہر شعبہ سے منسلک افراد کو دوسرے شعبہ والوں کا معاون بن کر کام کرنا چاہئے ، لیکن تعاون کے بجائے ایک فریق کی طرف سے محاذ آرائی کی فضاء قائم کرنا اور درسِ قرآن کو بند کرکے صرف فضائلِ اعمال کی تعلیم پر بضد رہنا ، جہالت اور دین سے ناواقفیت کی علامت ہے ، جو لوگ محض ضد و عناد کی بناء پر اور امت میں افتراق و انتشار اور مسجد میں فتنہ و فساد برپا کرنے کی غرض سے یہ مجرمانہ حرکتیں کررہے ہیں ، وہ لوگ تبلیغی جماعت کو بدنام کرنے کے علاوہ خود اپنی ذات پر بھی بہت بڑا ظلم کررہے ہیں ، اور جو لوگ ان کی ناروا حمایت اور ان کا ساتھ دے رہے ہیں وہ بھی ان ہی کی طرح گناہوں کے مرتکب ہورہے ہیں، لہٰذا ان تمام لوگوں پر باہمی اختلافات ختم کرکے ماضی پر ندامت اور توبہ و استغفار کرنا اور آئندہ کے لئے ایسی حرکتوں سے باز رہنے کا عزم کرنا لازم ہے ، جامع مسجد کی انتظامیہ اور تبلیغی جماعت کے اکابرین نے درسِ قرآن اور فضائلِ اعمال کی تعلیم کے لئے جو اوقات مقرر کئے ہیں ، ان مقررہ اوقات میں اگر یہ دونوں خدمات انجام دی جائیں تو فتنہ و فساد سرے ہی سے ختم ہوجائے گا ، اس لئے مذکورہ حضرات کی ہدایات پر سختی سے عمل ہونا چاہئے، ورنہ باہمی صلح و مشورہ سے دونوں کیلئے مناسب وقت کا دوبارہ تعین کرلیا جائے ، لیکن اگر صلح کے ساتھ ایسا ممکن نہ ہوسکے تو پھر مسجد کی انتظامیہ ، مسجد اور اہلِ مسجد کی مصلحت کا خیال کرکے از خود وقت کا تعین کردے ، جس کی پابندی فریقین پر شرعاً لازم ہوگی اور جس شخص نے درسِ قرآن بند کروایا تھا اسے چاہئے کہ وہ اس معاملہ میں حائل تمام رُکاوٹوں کو حتی المقدور دور کرنے کی کوشش کرے اور درسِ قرآن کا سلسلہ دوبارہ شروع کرانے کا اہتمام بھی کرے۔
اس شخص کے والد (سابق صدر ٹرسٹ) نے ، تمام ٹرسٹیوں کے متفقہ فیصلہ سے ، مسجد کے جملہ انتظامات جس ادارہ یا جن افراد کو سپرد کردئے تھے ، سب حضرات ان کے انتظامی امور میں کسی قسم کی مداخلت نہ کرنے کا عہد کرلیں ، تاکہ باہمی نزاع ختم ہوکر ، دیندار حضرات میں محبت واتفاق پیدا ہو اور مسجد فتنہ و فساد سے محفوظ رہے اور مسجد میں درس و تبلیغ کے دونوں کام ، بحسن و خوبی انجام دئیے جاسکیں۔ واﷲ اعلم
کتبہ:
احقر محمد فاروق عفی عنہ
دارالافتاء جامعہ احتشامیہ، جیکب لائن کراچی
۲۲؍۵؍۱۴۱۸ھـ
الجواب صحیح
احقر محمد اشرف غفر اﷲ لہٗ
دارالافتاء جامعہ احتشامیہ، جیکب لائن کراچی
۲۲؍۵؍۱۴۱۸ھـ
الجواب صحیح
احقر الناس: تنویر الحق تھانوی
بانی و مہتمم جامعہ احتشامیہ
وخطیب جامعہ مسجد جیکب لائن کراچی
۲۶؍۵؍۱۴۱۸ھـ
الجواب صحیح
بندہ سیف اﷲ جمیل
دارالافتاء جامعہ بنوریہ کراچی ۱۶
۲۸؍جمادی الاولٰی؍۱۴۱۸ھـ
مساجد میں درسِ قرآن اور فضائلِ اعمال کی تعلیم کے سلسلے میں اختلافات پر شرعی رہنمائی
یونیکوڈ حقوق مسجد 2عارضی مسجد (جائے نماز) کو شہید کرکے وہاں نئی مسجد کی آمدن کے لئے دکانیں بنانا جائز ہے؟
یونیکوڈ حقوق مسجد 3ضرورتمندوں کو اپنی ضروریات کیلئے اور مدرسہ والوں کا طلباء کے لئے مسجد میں چندہ مانگنا
یونیکوڈ حقوق مسجد 0