ہم نے اپنے محلہ میں نئی مسجد تعمیر کی اور جو پرانی مسجد ہے وہ کافی چھوٹی اور پرانی ہے، کیا ہم اس مسجد کو شہید کر سکتے ہیں؟ جبکہ نئی مسجد کی تعمیر دوسری جگہ پر کی ہے۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق نئی مسجد تعمیر ہو جانے کے باوجود اہلِ محلہ کے لیے پرانی مسجد کو شہید کرنا یا کسی اور مقصد کے لیے استعمال کرنا شرعاً جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے، جبکہ اس پرانی مسجد کو مکمل طور پر ویران چھوڑ دینا بھی درست نہ ہوگا، بلکہ اہلِ محلہ کی مشاورت سے کسی طرح اس پرانی مسجد کو بھی آباد رکھنے کی کوشش کریں۔
قال اللہ تعالیٰ: ﴿إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّهَ فَعَسَى أُولَئِكَ أَنْ يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ﴾ (التوبة: 18)
وفی مرقاة المفاتيح: وعن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ( «من غدا إلى المسجد أو راح، أعد الله له نزله من الجنة كلما غدا أو راح» ) . متفق عليه. اھ (2/ 592)
وفی الفتاوى الهندية: أهل محلة قسموا المسجد وضربوا فيه حائطا ولكل منهم إمام على حدة ومؤذنهم واحد لا بأس به، والأولى أن يكون لكل طائفة مؤذن، قال ركن الصباغي كما يجوز لأهل المحلة أن يجعلوا المسجد الواحد مسجدين فلهم أن يجعلوا المسجدين واحدا لإقامة الجماعة اھ (5/ 320)
مساجد میں درسِ قرآن اور فضائلِ اعمال کی تعلیم کے سلسلے میں اختلافات پر شرعی رہنمائی
یونیکوڈ حقوق مسجد 2عارضی مسجد (جائے نماز) کو شہید کرکے وہاں نئی مسجد کی آمدن کے لئے دکانیں بنانا جائز ہے؟
یونیکوڈ حقوق مسجد 3ضرورتمندوں کو اپنی ضروریات کیلئے اور مدرسہ والوں کا طلباء کے لئے مسجد میں چندہ مانگنا
یونیکوڈ حقوق مسجد 0