میں ایک سرکاری ملازم ہوں اور بیس سال سے ایک ہاسٹل میں رہ رہا ہوں، جبکہ میرے اہل وعیال خوشاب میں رہتے ہیں، (جو کہ فیصل آباد سے ۱۵۰ کلو میٹر کے مسافت پر ہے) میں ہر ہفتے گھر جاتا ہوں ، فیصل آباد میں پانچ سے چھ دن رہتا ہوں، اور خوشاب میں ایک سے دو دن تک ،بیس سال سے میرا یہی معمول ہے، میں فیصل آباد میں بطور مسافر نماز پڑھتا ہوں ، اور بطورِ مقیم خوشاب میں ، کچھ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ میں غلط ہوں۔ مہربانی فرما کر قرآن وسنت کے مطابق جواب عنایت فرمائیں۔
مسافت سفر کی کم سے کم مقدار ۴۸ میل (۷۸ کلومیٹر ) ہے، لہٰذا خوشاب اور فیصل آباد کا درمیانی فاصلہ مسافت سفر کا ہے، جبکہ فیصل آباد سائل کا وطن اقامت ہے، اس لیے سائل نے ابتداء ملازمت سے ابھی تک اگر پندرہ دن یا اس سے زائد مدت تک ایک بار بھی قیام نہ کیا ہو ،تو وہ فیصل آباد میں شرعاً مسافر ہے، اور وہ اپنی نماز میں قصر کرےگا۔
ففی الفتاوى الهندية: ووطن سكنى وهو البلد الذي ينوي الإقامة فيه دون خمسة عشر يوما اھ (1/ 142)
وفی الفتاوى الهندية: وإن نوى الإقامة أقل من خمسة عشر يوما قصر، هكذا في الهداية اھ (1/ 139)
وفی حاشية ابن عابدين: تحت (قوله رده في البحر) (إلی قوله) فإذا دخل المسافر بلدة ونوى أن يقيم بها يوما مثلا ثم خرج منها ثم رجع إليها قصر فيها كما كان يقصر قبل خروجه اھ (2/ 133) واللہ أعلم بالصواب!