میں جاننا چاہتا ہوں کہ مرابحہ کے تحت اسلامی فائنانسنگ کی کیا صورت ہے یا مرابحہ کی اصل صورت کیا ہے؟
کسی چیز کو اس کی قیمتِ خرید اور اضافی متعین نفع کے بدلے میں آگے فروخت کرنے کو بیع ِمرابحہ کہا جاتا ہے، اور یہ مندرجہ ذیل شرائط کے ساتھ جائز ہے:
(۱) جس قیمت کے بدلے میں خریدی ہے اس کا بتانا، مثلاً یہ چیز میں نے دس روپے کے بدلے میں خریدی ہے۔
(۲) نفع بھی بیان کرنا، مثلاً یہ چیز دس کی خریدی ہے پانچ روپے نفع کے ساتھ پندرہ روپے کی فروخت کرتا ہوں۔
(۳) جس چیز کے عوض میں خریدارِ اول نے یہ مبیع حاصل کی ہے اس کا مثلی ہونا، جیسے گندم، چاول، روپے پیسے وغیرہ۔
(۴) خریدارِ اول نے یہ چیز اموال ربویہ ہونے کی وجہ سے برابر سرابر عوض پر نہ خریدی ہو، جیسے ایک کلو گندم ایک کلو گندم کے بدلے۔
(۵) جس عقد کے ذریعے خریدارِ اول نے یہ مبیع حاصل کی ہے وہ عقد صحیح ہو فاسد نہ ہو۔
(۶) اور اگر خریدارِ اول کے پاس اس کے کسی فعل کی وجہ سے اس میں کوئی عیب پیدا ہوگیا ہو تو اس کا اظہار کرنا، اگر مذکور شرائط پوری ہوں تو بیعِ مرابحہ جائز ہے۔
كما في الهدایة: المرابحة نقل ما ملكه بالعقد الأول بالثمن الأول مع زيادة ربح. (۳/۵۶)-
وفي الفقه الإسلامي وأدلته: هو البیع بمثل الثمن الاوّل مع زیادة ربح – العلم بالثمن .... العلم بالربح .... أن یكون رأس المال من المثلیات ... ألا یترتب علی المرابحة فی أموال الربا وجود الربا بالنسبة للثمن الاوّل – ان یكون العقد الاول صحیحًا ... ان بیع المرابحة والتولیة بیع أمانة. (۴/۷۰۷) -
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1